ٹیکنالوجی کو موثر انداز میں بروئے کار لا کر جغرافیائی رکاوٹوں پر قابو پایا اور بالخصوص دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے عوام کیلئے نظام انصاف کو مزید قریب لایا جا سکتا ہے، چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی
ٹیکنالوجی کو موثر انداز میں بروئے کار لا کر جغرافیائی رکاوٹوں پر قابو پایا اور بالخصوص دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے عوام کیلئے نظام انصاف کو مزید قریب لایا جا سکتا ہے، چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔1ستمبر (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کو موثر انداز میں بروئے کار لا کر جغرافیائی رکاوٹوں پر قابو پایا اور بالخصوص دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے عوام کے لیے نظام انصاف کو مزید قریب لایا جا سکتا ہے، بلوچستان میں ای کورٹس کا قیام عوام کو سستا، بروقت اور آسان انصاف فراہم کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے منگل کو جاری اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کی کوئٹہ برانچ رجسٹری میں بلوچستان ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، سپریم کورٹ کے جج جسٹس ہاشم خان کاکڑ اور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل کو بلوچستان بھر میں ای کورٹس کے قیام سے متعلق بریفنگ دی۔بریفنگ میں بلوچستان کے مختلف علاقوں جن میں ژوب، زیارت، گوادر، چمن، تربت، نصیرآباد اور مکران ریجن کے اضلاع شامل ہیں، سے ججز اور وکلاء برادری کے ارکان نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ای کورٹس کا مقصد وکلا اور سائلین کو اپنے متعلقہ اضلاع سے ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات کی پیروی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
بلوچستان کے وسیع جغرافیائی پھیلائو، اضلاع اور کوئٹہ کے درمیان طویل فاصلوں، دشوار گزار علاقوں، سڑکوں کی خراب صورتحال اور بعض علاقوں میں امن و امان کے مسائل کے باعث سائلین اور وکلاء کو کوئٹہ کے طویل اور مہنگے سفر سے نجات ملے گی۔ای کورٹس کے ذریعے مقدمات کی بروقت سماعت ممکن ہونے کے ساتھ ساتھ نظام انصاف کو مزید قابل رسائی، موثر اور عوام دوست بنانے میں مدد ملے گی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ چمن، خانوزئی، مسلم باغ، پشین، ژوب، دکی، قلعہ سیف اللہ، ڈیرہ اللہ یار، ڈیرہ مراد جمالی، گوادر، رکھنی ضلع بارکھان، کوہلو، خضدار، تربت، سبی، لورالائی اور کوئٹہ سمیت مختلف مقامات پر ویڈیو لنک کا ضروری سامان نصب کر دیا گیا ہے۔ زیارت، ہرنائی، مستونگ، قلات، بیلہ، حب، نوشکی، خاران، دالبندین، پنجگور، سریاب، بسیمہ، قلعہ عبداللہ، ڈھاڈر، ڈیرہ بگٹی اور موسیٰ خیل سمیت باقی مقامات پر آلات کی تنصیب کا عمل جاری ہے۔
بتایا گیا کہ ٹرانسپورٹیشن کی مشکلات اور سڑکوں کی بندش کے باعث آلات کی ترسیل میں تاخیر ہوئی تاہم لاجسٹک عمل رواں ہفتے مکمل ہونے کی توقع ہے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے بلوچستان میں ای کورٹس کے قیام کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کو موثر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے جغرافیائی رکاوٹیں ختم کی جانی چاہئیں تاکہ نظام انصاف بالخصوص دور دراز اور سہولیات سے محروم علاقوں کے عوام کے قریب لایا جا سکے۔








