جرمنی میں موجود شامی پناہ گزینوں کو اب واپس چلے جانا چاہیے بصورت دیگر ملک بدر کرسکتے ہیں، چانسلر فریڈرک مرز

لندن۔4نومبر (اے پی پی):جرمنی نے کہا ہے کہ یہاں موجود شامی پناہ گزینوں کو اب وطن واپس چلے جانا چاہیے کیونکہ وہاں جنگ ختم ہو چکی ہے بصورت دیگر انہیں ملک بدری کا سامنا کرنا ہو گا۔العربیہ اردو کےمطابق یہ بات جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے شمالی جرمنی میں ہسوم کے دورے کے دوران کہی ۔انہوں نے کہا کہ 13 سالہ جنگ سے فرار ہونے والے شامیوں کے لیے جرمنی …

لندن۔4نومبر (اے پی پی):جرمنی نے کہا ہے کہ یہاں موجود شامی پناہ گزینوں کو اب وطن واپس چلے جانا چاہیے کیونکہ وہاں جنگ ختم ہو چکی ہے بصورت دیگر انہیں ملک بدری کا سامنا کرنا ہو گا۔العربیہ اردو کےمطابق یہ بات جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے شمالی جرمنی میں ہسوم کے دورے کے دوران کہی ۔انہوں نے کہا کہ 13 سالہ جنگ سے فرار ہونے والے شامیوں کے لیے جرمنی میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی اب کوئی وجہ نہیں رہی، جو لوگ اپنے ملک واپس جانے سے انکار کریں ہم یقیناً انہیں ملک بدر کر سکتے ہیں۔

فریڈرک مرز نے کہا کہ انہوں نے شام کے صدر احمد الشرع کو جرمنی آنے کی دعوت دی تاکہ اس بات پر تبادلہ خیال کیا جائے کہ ہم مل کر یہ مسئلہ کیسے حل کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شام کو تعمیرِ نو کے لیے اپنی تمام طاقت اور سب سے بڑھ کر شامیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ یقین ظاہر کیا کہ متعدد لوگ خود اپنی مرضی سے واپس چلے جائیں گے۔واضح رہے کہ تقریباً 10 لاکھ شامی جرمنی میں رہائش پذیر ہیں جن میں سے زیادہ تر 2015 اور 2016 میں بڑے پیمانے پر نقلِ مکانی کے دوران جنگ سے فرار ہو کر آئے تھے۔