جرمنی کو دفاعی ذمہ داری کے ساتھ مذاکرات اور شراکت داری کو بھی ترجیح دینا ہوگی، جرمن ایوان زیریں کے رکن کرسٹوف شمڈ کا آئی ایس ایس آئی کے زیراہتمام عوامی مذاکرے سے خطاب
جرمنی کو دفاعی ذمہ داری کے ساتھ مذاکرات اور شراکت داری کو بھی ترجیح دینا ہوگی، جرمن ایوان زیریں کے رکن کرسٹوف شمڈ کا آئی ایس ایس آئی کے زیراہتمام عوامی مذاکرے سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔1ستمبر (اے پی پی):جرمنی کی وفاقی پارلیمان کے ایوان زیریں ’’بنڈس ٹاگ‘‘ کے رکن کرسٹوف شمڈ نے کہا ہے کہ جرمنی کو اپنی اور یورپ کی سلامتی کے لیے زیادہ ذمہ داری اٹھاتے ہوئے قیادت کا کردار ادا کرنا ہوگا تاہم مضبوط دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ مذاکرات، قابل اعتماد شراکت داری اور یورپ سے باہر مسلسل روابط بھی ضروری ہیں۔وہ انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے سینٹر فار سٹریٹجک پرسپیکٹو (سی ایس پی) کے زیر اہتمام ’’بدلتے ہوئے عالمی نظام میں دفاع اور سلامتی کی پالیسی: جرمنی اور یورپی یونین کے تناظر میں‘‘ کے موضوع پر عوامی مذاکرے سے خطاب کر رہے تھے۔
منگل کو یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق کرسٹوف شمڈ نے جرمنی کی بدلتی ہوئی تزویراتی پوزیشن کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ یوکرین تنازع اور اس کے نتیجے میں جرمنی کی دفاعی تیاری، بیرونی سلامتی اور توانائی کے انتظامات پر انحصار کا ازسرنو جائزہ لیا گیا ہے۔انہوں نے جرمنی کی دفاعی ترجیحات ، بنیادی ڈھانچے اور زیادہ موثر خریداری کو اہم قرار دیتے ہوئے ابھرتے ہوئے خطرات کے مقابلے کے لیے معاشرتی آگاہی اور لچک بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے جرمن اور یورپی نقطہ نظر سے روس کو سب سے بڑا سکیورٹی چیلنج قرار دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ فوجی تیاری میں اضافے کی قیمت سفارت کاری کی صورت میں نہیں چکانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف پر اتفاق کرنا بھی اعتماد پیدا کرنے کا ایک طریقہ ہے اور مختلف خطوں میں شراکت داروں کے ساتھ روابط کی اہمیت پر زور دیا۔کرسٹوف شمڈ نے پاکستان کی جانب سے حالیہ عرصے میں امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی پاکستان کے ثالثی کردار سے سیکھنے کے لیے اس کے ساتھ رابطے کے لیے تیار ہوگا۔اپنے استقبالیہ کلمات میں آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سفیر معین الحق نے کہا کہ بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت، یوکرین تنازع، مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام جس میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے مزید اضافہ ہوا، فوجی ٹیکنالوجی میں تبدیلی اور غیر روایتی خطرات مجموعی طور پر عالمی سلامتی کے ماحول کو نئی شکل دے رہے ہیں۔انہوں نے عالمی حکمرانی کے زیادہ نمائندہ اور جوابدہ نظام کی ضرورت پر زور دیا جس میں ترقی پذیر ممالک کے جائز سلامتی کے خدشات کو مناسب طور پر مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان سلامتی کے مکالمے، تجارت، ٹیکنالوجی، ترقی، موسمیاتی تبدیلی، توانائی، تعلیم اور علاقائی رابطوں کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔
اختتامی کلمات میں انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس) کے صدر سفیر جوہر سلیم نے موجودہ دور کے سلامتی کے چیلنجز کی باہمی نوعیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تنازعات کے نتیجے میں معاشی اور سلامتی کے اثرات تیزی سے وسیع پیمانے پر مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے مسلسل ٹرانس اٹلانٹک تعاون اور ابھرتے ہوئے چین کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی اہمیت پر زور دیا۔اس سے قبل سی ایس پی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نیلم نگار نے کہا کہ جرمنی اور یورپ کی بدلتی ہوئی دفاعی پالیسیاں یورپ سے کہیں آگے تک اثرات رکھتی ہیں۔
انہوں نے سلامتی، معیشت، ترقی، موسمیاتی تبدیلی اور علاقائی رابطوں کے شعبوں میں پاکستان کے جرمنی اور یورپی یونین کے ساتھ روابط کے لیے ان پیش رفت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔مذاکرے کے بعد سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی جس میں سفارتی برادری کے ارکان، حکومتی عہدیداران، ماہرین تعلیم، محققین، طلبہ، میڈیا نمائندگان اور سول سوسائٹی کے متعلقہ افراد نے شرکت کی۔







