جرمنی کے وزیر برائے ڈیجیٹل امور کارسٹن فیلڈ برجر کو جرمن میڈیا میں سرکاری تحریروں کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کے مبینہ استعمال پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
جرمن وزیر کارسٹن فیلڈ برجر کو سرکاری تحریروں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر تنقید کا سامنا

مزید خبریں
برلن۔15جون (اے پی پی):جرمنی کے وزیر برائے ڈیجیٹل امور کارسٹن فیلڈ برجر کو جرمن میڈیا میں سرکاری تحریروں کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کے مبینہ استعمال پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ تنازعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جرمنی 2025 میں قائم کی گئی نئی وزارت کے تحت سرکاری نظام کو جدید بنانے اور ڈیجیٹل پالیسی کو مربوط کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کو تیز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزارت کے ایک ترجمان نے جرمن پریس ایجنسی (ڈی پی اے) کو تصدیق کی کہ کارسٹن فیلڈ برجر مصنوعی ذہانت کو کام کرنے والے ایک آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ وزیر برائے ڈیجیٹل امور مصنوعی ذہانت کو معاون آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جرمنی کو مصنوعی ذہانت کو پیداواری اور دانشمندانہ طریقے سے استعمال کرنا سیکھنا چاہیے اور یہ بات معیشت، سرکاری شعبے اور سیاست سب پر لاگو ہوتی ہے۔
وزارت نے کہا کہ میڈیا اداروں کو کوئی خصوصی وضاحت اس لیے نہیں دی گئی کیونکہ مصنوعی ذہانت کو ورڈ پروسیسنگ یا تحقیق میں مدد کی طرح کا ایک معاون آلہ سمجھا جاتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو بحث میں ایک ساتھی کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ خیالات کو منظم کیا جا سکے، متبادل الفاظ تجویز کیے جا سکیں، تحریروں کو مختصر کیا جا سکے یا ڈھانچے کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام مواد کو اشاعت سے قبل انسانوں کی جانب سے جانچا اور منظور کیا جاتا ہے تاکہ غلطیوں اور مصنوعی ذہانت کے خود ساختہ نتائج جسے ہلوسینیشن کہا جاتا ہے سے بچا جا سکے۔ واضح رہے کہ ہفتہ وار جریدے دی ٹسائٹ نے اطلاع دی ہے کہ جرمنی کے وزیر برائے ڈیجیٹل امور سے منسوب کئی تقاریر اور رائے پر مبنی مضامین بڑی حد تک مصنوعی ذہانت کا استعمال کرکے لکھے گئے معلوم ہوتے ہیں۔
اخبار کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے نتائج کی بنیاد ان سافٹ ویئرز پر کیے گئے تجزیوں پر رکھی ہے جو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کو پکڑنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ تاہم کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹیکشن پروگرام مکمل طور پر قابل اعتماد نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کارسٹن فیلڈ برجر کے نام سے جرمنی کے معروف اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین کے علاوہ کئی پارلیمانی تقاریر میں بھی مصنوعی ذہانت کے بڑے پیمانے پر استعمال کے آثار نمایاں تھے۔ کہا گیا ہے کہ واشنگٹن میں امریکی خارجہ پالیسی کے تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل میں 2024 میں دی گئی تقریر مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی تھی۔








