برلن۔23فروری (اے پی پی):جرمنی کے وزیر ماحولیات کیرسٹن شنیڈر نے برلن میں سجائے گئے فلمی میلے سے اس وقت واک آؤٹ کردیا، جب فلمی میلے میں انعام کے مستحق قرار پانے والے ڈائریکٹر نے جرمنی کو اسرائیل کے ساتھ فلسطینیوں کی نسل کشی کے جرم میں ملوث قرار دیا۔ العربیہ اردو کے مطابق انعام پانے والے شامی فلسطینی فلم ڈائریکٹر عبداللہ الخطیب نے اسرائیل اور اس کے اہم اتحادی جرمنی …
جرمن وزیر کا اسرائیل کے ساتھ نسل کشی میں شریک جرم ہونے کے الزام پر فلمی میلے سے واک آؤٹ

مزید خبریں
برلن۔23فروری (اے پی پی):جرمنی کے وزیر ماحولیات کیرسٹن شنیڈر نے برلن میں سجائے گئے فلمی میلے سے اس وقت واک آؤٹ کردیا، جب فلمی میلے میں انعام کے مستحق قرار پانے والے ڈائریکٹر نے جرمنی کو اسرائیل کے ساتھ فلسطینیوں کی نسل کشی کے جرم میں ملوث قرار دیا۔
العربیہ اردو کے مطابق انعام پانے والے شامی فلسطینی فلم ڈائریکٹر عبداللہ الخطیب نے اسرائیل اور اس کے اہم اتحادی جرمنی کو دو سال سے زائد عرصہ تک غزہ میں لڑی گئی اسرائیلی جنگ کے ضمن میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں شریک قرار دیا۔عبداللہ الخطیب نے کہا کہ جرمنی بھی اسرائیل کے ساتھ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں شریک رہا ہے،لیکن میں توقع رکھتا ہوں کہ ایک ذہین شخص ہونے کے ناطے آپ یہ بات تسلیم کر لیں گے،
لیکن جرمن وزیر نے فلمی میلے کا واک آؤٹ کر دیا ۔ جرمن چانسلر کے اتحادی الیگزینڈر ہوفمان نے فلمی میلے میں جرمنی کو نسل کشی کا مرتکب قرار دیے جانے والے ریمارکس کو یہود دشمنی کا نام دیا۔ الیگزینڈر ہوفمان کرسچین سوشل یونین کے سربراہ ہیں۔
برلن کے میئر کائے وہگنر نے کہاکہ اسرائیل کو نسل کشی کا مرتکب کہنا اسرائیل کے ساتھ کھلی دشمنی کے مترادف ہے۔ نیز یہ فلمی میلے کے منتظمین کی سوچ کا کھلا تضاد ہے۔یاد رہے کہ فلمی میلے میں شرکت کرنے والی 80 سے زائد فلمی شخصیات نے جرمنی کی غزہ میں کی گئی نسل کشی پر خاموشی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔








