جعلی ادویات کا خاتمہ ناگزیر ، جعلی ادویات کے خاتمے سے معیاری فارماسیوٹیکل صنعت کی ساکھ مزید مضبوط ہوگی، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
جعلی ادویات کا خاتمہ ناگزیر ، جعلی ادویات کے خاتمے سے معیاری فارماسیوٹیکل صنعت کی ساکھ مزید مضبوط ہوگی، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال

مزید خبریں
اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ جعلی ادویات کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے، جعلی ادویات کے خاتمے سے معیاری فارماسیوٹیکل صنعت کی ساکھ مزید مضبوط ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ویٹرنری فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن کے ساتھ اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں ویٹرنری ادویات پر 2D بارکوڈ نظام کے نفاذ، ادویات کی ٹریس ایبلٹی اور جعلی و غیر معیاری ادویات کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ویٹرنری اور پولٹری ادویات کی محفوظ، مستند اور قابل تصدیق فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
ادویات پر 2D بارکوڈ کے نفاذ کے لیے گزشتہ ڈیڑھ سال سے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2D بارکوڈ کا نظام جعلی اور غیر معیاری ویٹرنری و پولٹری ادویات کی روک تھام میں معاون ثابت ہوگا اور اس کے ذریعے ادویات کی سپلائی چین میں ٹریس ایبلٹی کو مزید موثر بنایا جا سکے گا۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جانوروں میں استعمال ہونے والی ادویات بھی انسانی صحت سے براہِ راست جڑی ہوئی ہیں۔ ون ہیلتھ کے اصول کے تحت ویٹرنری ادویات کے موثر ضابطے اور نگرانی کو یقینی بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ معیاری ویٹرنری ادویات کی دستیابی نہ صرف جانوروں کی صحت بلکہ انسانی صحت اور فوڈ سیفٹی کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہے۔ وزارت صحت ویٹرنری ادویات کے معیار، نگرانی اور ٹریس ایبلٹی کے نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔







