جموں و کشمیر بارے اقوام متحدہ کا موقف تبدیل نہیں ہوا،نائب ترجمان فرحان حق عزیز

اقوام متحدہ۔8اگست (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر عالمی ادارے کا موقف تبدیل نہیں ہوا،اس تنازعے کا حتمی حل یواین او کی قراردوں کے مطابق ہی ہوسکتا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق عزیز نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کا موقف بدستور قائم ہے،اسے عالمی …

اقوام متحدہ۔8اگست (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر عالمی ادارے کا موقف تبدیل نہیں ہوا،اس تنازعے کا حتمی حل یواین او کی قراردوں کے مطابق ہی ہوسکتا ہے۔

یہ بات اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق عزیز نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کا موقف بدستور قائم ہے،اسے عالمی ادارے کے چارٹر کے تحت اس انداز میں حل کیا جانا چاہیے جس میں وہاں کے لوگوں کے انسانی حقوق کا مکمل طور پر خیال رکھا گیا ہو۔

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال اور 5 اگست کو بھارت کی طرف سے جموں و کشمیر کے الحاق کے بعد وہاں کے لوگوں پر مسلسل مصائب بارے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں فرحان حق عزیز نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات سے متعلق 1972 کا شملہ معاہدہ بھی موجود ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ پانچ سال قبل بھارت کی مودی حکومت نے ریاست جموں و کشمیر کو اس کی خصوصی حیثیت سے محروم کردیا،آئین کے آرٹیکل 370 اور اے 35 کو ختم کردیا گیا جن میں شہریوں کو جائیداد، ملازمتوں اور وراثتی امور کے حوالے سے تحفظ حاصل تھا۔ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 370 جموں و کشمیر سے باہر کے بھارتی شہریوں کو ریاست میں مستقل طور پر آباد ہونے ،زمین خریدنے،مقامی سرکاری ملازمتیں رکھنے اور تعلیمی وظائف کے حصول سے روکتا تھا، بھارت کے اس اقدام سے مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کو ٹیلی کام بلیک آئوٹ،عوامی نقل و حرکت پر پابندیوں اور ہزاروں نئے تعینات انڈین فوجیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد بھارت نے ریاست جموں و کشمیر میں اپنی بربریت میں اضافے کے ساتھ ساتھ وہاں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے ہزاروں بھارتی شہریوں کو اس علاقے کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹس دیے ہیں جس سے انہیں وہاں رہائش اور مقامی سرکاری ملازمتوں کا حق مل گیا ہے جو قبل ازیں صرف کشمیریوں کو ہی حاصل تھا۔