اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا کہ جمہوریت میں اپوزیشن کے بغیر کام نہیں کیا جا سکتا، اپوزیشن کے ساتھ 100 فیصد مذاکرات ہونے چاہییں، اپوزیشن بدعنوانی کیسز میں ریلیف چاہتی ہے جس کیلئے وزیراعظم عمران خان کبھی تیار نہیں ہوں گے، پشاور میں ناکامی کے بعد ملتان جلسہ ان کا سیاسی جوا ہے، اپوزیشن رہنمائوں میں تھوڑی سی بھی عقل …
جمہوریت میں اپوزیشن کے بغیر کام نہیں کیا جا سکتا، اپوزیشن کے ساتھ 100 فیصد مذاکرات ہونے چاہییں،اپوزیشن ملتان جلسہ پر سیاسی جوا کھیل رہی ہے،ان میں عقل ہو تو انہیں جلسہ موخر کر دینا چاہیے،وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین

مزید خبریں
اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا کہ جمہوریت میں اپوزیشن کے بغیر کام نہیں کیا جا سکتا، اپوزیشن کے ساتھ 100 فیصد مذاکرات ہونے چاہییں، اپوزیشن بدعنوانی کیسز میں ریلیف چاہتی ہے جس کیلئے وزیراعظم عمران خان کبھی تیار نہیں ہوں گے، پشاور میں ناکامی کے بعد ملتان جلسہ ان کا سیاسی جوا ہے، اپوزیشن رہنمائوں میں تھوڑی سی بھی عقل ہے تو انہیں جلسہ ملتوی کر دینا چاہیے۔ ہفتہ کو نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں کورونا کی صورتحال بتدریج خراب ہو رہی ہے، اندھے کو بھی نظر آ رہا ہے کہ ان حالات میں جلسے کرنا مناسب نہیں ہے، اپوزیشن جماعتیں ذاتی مفادات کو تحفظ دینے کیلئے جان بوجھ کر لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں دھکیل رہی ہیں، اپوزیشن کو جیل میں ڈالا تو کہیں گے ظلم ہو گیا، جمہوریت خطرے میں پڑ گئی ہےاسلئے انہیں خود سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا اپوزیشن سے متعلق موقف واضح ہے، وزیراعظم انتخابی اصلاحات سمیت دیگر عوامی اور قومی مفادات کے معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں لیکن اپوزیشن اپنے بدعنوان قائدین کے کیسز سے ہٹ کر بات کرنے کیلئے تیار نہیں، اپوزیشن کیسز پر ریلیف چاہتی ہے اور وزیراعظم عمران خان احتساب کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے قائدین کو گلگت بلتستان انتخابی نتائج کے بعد اپنے بیانیے پر نظرثانی کرنی چاہیے لیکن وہ کریں گے نہیں، نواز شریف کا بیانیہ عقل کے اوپر نہیں بلکہ غصے کے اوپر مبنی ہیے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سو فیصد مذاکرات ہونے چاہییں، حکومت کو انتخابی اصلاحات اور قانون سازی کرنے کیلئے اپوزیشن کی ضرورت ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نعیم بخاری کی چیئرمین پی ٹی وی تقرری اچھا فیصلہ ہے، وہ ساری چیزوں کو سمجھتے ہیں اسلئے وہ حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کو پی ٹی وی پر اپنا موقف پیش کرنے سے نہیں روکیں گے۔








