فیصل آباد ،ماہرین اثمار آری کی آم کے باغبانوں کو ستمبر میں خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت

ماہرین اثمار آری نے آم کے باغبانوں کے لیے ستمبر کے دوران باغات کی بہتر نگہداشت، پودوں کی صحت برقرار رکھنے اور آئندہ پیداوار کو نقصان سے محفوظ رکھنے کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کردیں۔

فیصل آباد۔ 25 اگست (اے پی پی):ماہرین اثمار آری نے آم کے باغبانوں کے لیے ستمبر کے دوران باغات کی بہتر نگہداشت، پودوں کی صحت برقرار رکھنے اور آئندہ پیداوار کو نقصان سے محفوظ رکھنے کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کردیں۔ اسسٹنٹ آفیسر اثمار وقاص احمد نے کہا ہےکہ ماہرین کی سفارشات کے تحت رہنما اصولوں کے مطابق ستمبر آم کے باغات میں مختلف اہم زرعی سرگرمیوں کے لیے نہایت اہم مرحلہ ہے، اس دوران بروقت اقدامات سے پودوں کی بہتر نشوونما اور بیماریوں و کیڑوں سے تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ستمبر میں آم کے باغات میں مختلف اقسام کے پھلوں کی برداشت مکمل کرنے کا عمل جاری رکھا جائے جبکہ برداشت کے بعد باغات کی صفائی اور پودوں کی آئندہ نشوونما کے لیے ضروری انتظامات پر خصوصی توجہ دی جائے۔انہوں نے باغبانوں کو ہدایت کی کہ پھل اتارتے وقت پودوں اور شاخوں کو غیر ضروری نقصان سے بچایا جائے تاکہ اگلے پیداواری مرحلے میں درختوں کی صحت متاثر نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ باغات میں شاخ تراشی جاری رکھی جائے، نئے پودے لگائے جائیں اور ان کی مناسب نگہداشت کی جائے۔ شاخ تراشی کے ذریعے درخت کی غیر ضروری اور زائد شاخوں کو کم کیا جا سکتا ہے، جس سے پودے میں ہوا اور روشنی کی مناسب آمدورفت برقرار رہتی ہے اور مستقبل میں بہتر بڑھوتری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔انہوں نے آبپاشی کے حوالے سے باغبانوں کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آم کے پودوں کو ضرورت کے مطابق ایک آبپاشی ضرور کی جائے۔ پانی کی فراہمی میں توازن برقرار رکھنا ضروری ہے کیونکہ ضرورت سے کم یا زیادہ آبپاشی دونوں صورتوں میں پودوں کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔ باغبان موسمی حالات، زمین کی کیفیت اور پودوں کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے آبپاشی کا مناسب نظام اختیار کریں۔انہوں نے آم کے باغات کو کیڑوں اور بیماریوں سے محفوظ رکھنے پر بھی زور دیا ۔ تھیلوں اور جڑوں پر حملہ آور سکیل کے خلاف ضرورت کے مطابق سپرے کیا جائے جبکہ پودوں کی بیماری اور مندہ سڑی کے خلاف بھی مناسب حفاظتی سپرے کیے جائیں۔ باغبان پودوں کا باقاعدگی سے معائنہ کرتے رہیں اور کسی بھی قسم کے کیڑے یا بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر زرعی ماہرین یا محکمہ زراعت کے متعلقہ عملے سے رہنمائی حاصل کریں۔انہوں نے کہا کہ ستمبر کے دوران جڑی بوٹیوں کے موثر تدارک کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں۔ باغات میں جڑی بوٹیوں کی موجودگی پودوں کے لیے دستیاب غذائی اجزا، پانی اور دیگر وسائل پر اثر انداز ہوتی ہے اس لیے انہیں بروقت ختم کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح چھوٹے پودوں کو کورے سے محفوظ رکھنے کے لیے پیشگی انتظامات کیے جائیں تاکہ موسم کی شدت کے باعث کم عمر پودوں کو نقصان نہ پہنچے۔انہوں نے باغبانوں پر زور دیا کہ آم کے باغات میں ہر سرگرمی مقررہ وقت اور زرعی سفارشات کے مطابق انجام دی جائے۔ محکمہ کی جانب سے جاری کیلنڈر گائیڈ کا مقصد باغبانوں کو ماہانہ بنیادوں پر ضروری زرعی امور سے آگاہ کرنا اور آم کی فصل کے معیار و پیداوار کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کاشتکاروں سے اپیل کی کہ وہ آم کے باغات میں کیڑوں، بیماریوں، جڑی بوٹیوں اور آبپاشی سے متعلق مسائل کو نظرانداز نہ کریں اور کسی بھی مشکل کی صورت میں محکمہ زراعت کے فیلڈ عملے سے رابطہ کریں۔ زرعی رہنمائی اور جدید سفارشات پر عمل درآمد کرتے ہوئے باغبان نہ صرف موجودہ باغات کو نقصان سے محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ آئندہ فصل کے لیے بھی پودوں کو بہتر حالت میں رکھنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ باغبانوں کی سہولت کے لیے زرعی ہیلپ لائن 17000 ۔0800بھی فراہم کی گئی ہے، جہاں زرعی امور سے متعلق رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

مزید خبریں