حکومت بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے سے متعلق عدالت عظمیٰ کی مزید کسی بھی ہدایت پر عملدرآمد کرے گی، رانا ثناء اللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ خان نے ایوان بالا کو بتایا ہے کہ سپریم کورٹ 16 ستمبر کو فیصلہ کرے گی کہ بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے سے متعلق 18 اگست کے عدالتی حکم پر کس حد تک عملدرآمد ہوا، حکومت عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری ہونے والی مزید کسی بھی ہدایت پر عملدرآمد کرے گی۔

اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ خان نے ایوان بالا کو بتایا ہے کہ سپریم کورٹ 16 ستمبر کو فیصلہ کرے گی کہ بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے سے متعلق 18 اگست کے عدالتی حکم پر کس حد تک عملدرآمد ہوا، حکومت عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری ہونے والی مزید کسی بھی ہدایت پر عملدرآمد کرے گی۔ منگل کو سینیٹر علی ظفر اور قائد حزب اختلاف کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کو عدالت کا کردار ادا کرتے ہوئے عدالتی حکم پر عملدرآمد بارے اپنی اپنی رائے سے فیصلہ نہیں سنانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت، ریاستی ادارے اور عدالتیں سب آئین اور قانون کے پابند ہیں جبکہ عدالتی حکم پر عملدرآمد سے متعلق اختلاف کی صورت میں نظرثانی اور قانونی چارہ جوئی کے طریقہ کار بھی موجود ہیں۔ سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کے لئے مخلصانہ کوشش کی تاہم مقررہ مقام پر سکیورٹی صورتحال کے خدشات کے باعث منصوبے میں تبدیلی کی گئی اور انہیں ایک سرکاری طبی مرکز لے جایا گیا جہاں ان کے مطابق مستند اور ماہر ڈاکٹروں نے مکمل طبی معائنہ کیا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ 16 ستمبر کو عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد ہوا یا نہیں، کس حد تک ہوا اور آیا اس میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔

انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ اگر سپریم کورٹ نے کسی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت کو مزید اقدامات کی ہدایت کی تو ان احکامات پر عملدرآمد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتی، ماضی میں بھی ان کی صحت کے معاملے میں کوئی غفلت نہیں برتی گئی اور آئندہ بھی کسی غفلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی بانی سے ملاقاتوں کے بعد سامنے آنے والے سیاسی بیانات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ملاقاتوں سے متعلق پیغامات بعد ازاں پریس کانفرنسوں میں دہرائے گئے اور بیرون ملک سے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی تشہیر کی گئی۔

دریں اثناء وفاقی وزیر قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کاری سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں سی ٹی سکین کی سہولت دستیاب نہ ہونے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پمز میں دو سی ٹی سکین مشینیں فعال ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ شواہد کے ساتھ پمز میں سی ٹی سکین کی سہولت سے متعلق حقائق ایوان کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے تسلیم کیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں حالات مثالی نہیں تاہم پمز 1985 میں تقریباً چار لاکھ آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے قائم کیا گیا تھا جبکہ اسلام آباد کی آبادی اب تقریباً 50 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور راولپنڈی سے بھی مریض علاج کے لئے وفاقی دارالحکومت آتے ہیں جس سے ہسپتال پر غیر معمولی دباؤ پڑتا ہے اور بعض اوقات مریضوں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ طبی معائنے اور ٹیسٹ مریض کی طبی حالت اور اہم علامات کی بنیاد پر ڈاکٹرز طے کرتے ہیں، غیر ضروری طبی طریقہ کار خود بھی بعض طبی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پمز میں طبی ماہرین کا پینل موجود ہے اور اگر ڈاکٹرز سی ٹی سکین ضروری سمجھیں تو یہ سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پمز میں موجود دونوں سی ٹی سکین مشینیں فعال ہیں اور ان کے غیر فعال ہونے سے متعلق دعوے درست نہیں۔