جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایران کی فوجی اور سیاسی قیادت سے ملاقاتیں،صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے بھی ملے

جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایران کی فوجی اور سیاسی قیادت سے ملاقاتیں،صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے بھی ملے،ایران کے چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل محمد بغیری سے بھی جنرل سٹاف ہیڈ کوارٹر میں ملاقات،گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،جنرل باجوہ نے یادگار شہداءپر پھولوں کی چادر چڑھائی،وفد کی سطح پر مذاکرات بھی کئے راولپنڈی ۔ 06 نومبر (اے پی پی) بری فوج کے …

جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایران کی فوجی اور سیاسی قیادت سے ملاقاتیں،صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے بھی ملے،ایران کے چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل محمد بغیری سے بھی جنرل سٹاف ہیڈ کوارٹر میں ملاقات،گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،جنرل باجوہ نے یادگار شہداءپر پھولوں کی چادر چڑھائی،وفد کی سطح پر مذاکرات بھی کئے

راولپنڈی ۔ 06 نومبر (اے پی پی) بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے حالیہ دورہ ایران کے دوران ایران کی فوجی اور سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں۔ پیر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایران کے چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل محمد بغیری سے جنرل سٹاف ہیڈ کوارٹر میں ملاقات کی، جہاں بری فوج کے سربراہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ انہوں نے یادگار شہداءپر پھولوں کی چادر چڑھائی اور وفد کی سطح پر مذاکرات بھی کئے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے صدارتی محل میں ایران کے صدر حسن روحانی اور وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ایرانی قیادت نے بری فوج کے سربراہ کے دورہ ایران پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے علاقائی امن اور اس حوالے سے پاکستان کے مثبت کردار، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی کی قربانیوں اور کامیابیوں کا اعتراف کیا۔ ملاقاتوں کے دوران بری فوج کے سربراہ نے جیو سٹریٹجک صورتحال، باہمی اور علاقائی سطح پر دفاعی، سیکورٹی اور معاشی تعاون، افغانستان کی صورتحال، خطے میں داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے اور پاک ایران سرحدی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک ایران سرحد کو امن اور دوستی کی سرحد قرار دیا اور اس کی بہتر سیکورٹی مینجمنٹ پر زور دیا تاکہ مشترکہ دشمن دہشتگردوں کو اس سے فائدہ اٹھانے سے روکا جا سکے۔ فریقین نے اس کیلئے روایتی طور پر مزید تجاویز پر اتفاق کیا۔

Leave a Reply