جنوبی پنجاب صوبے کے خواب کوتعبیرملناشروع ہوگئی،یہ اتنی بڑی تبدیلی ہے جس کالوگوں کواندازہ نہیں،مخدوم شاہ محمودقریشی

ملتان ۔06 ستمبر(اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود حسین قریشی نے کہا ہے کہ ملتان کا سب سے بڑا اور دیرینہ مسئلہ سیوریج کا ہے اس مسئلہ پر کئی دہائیوں سے توجہ نہیں دی گئی مگر اب اس اہم ایشو کو حل کرنے کے لئے جامع پلاننگ کی جا رہی ہے شہر کی بوسیدہ سیوریج لائنوں کی تبدیلی کے لیے سوا 2 ارب روپے کی مالیت کے منصوبے …

ملتان ۔06 ستمبر(اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود حسین قریشی نے کہا ہے کہ ملتان کا سب سے بڑا اور دیرینہ مسئلہ سیوریج کا ہے اس مسئلہ پر کئی دہائیوں سے توجہ نہیں دی گئی مگر اب اس اہم ایشو کو حل کرنے کے لئے جامع پلاننگ کی جا رہی ہے شہر کی بوسیدہ سیوریج لائنوں کی تبدیلی کے لیے سوا 2 ارب روپے کی مالیت کے منصوبے پر باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے جاپان انٹرنیشنل کو آپریشن ایجنسی (جائیکا) واسا ملتان کو 2ارب 79کروڑ روپے کی مشینری کی خریداری کے لیے خصوصی گرانٹ دے رہا ہے جس واسا کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا بلکہ مدینہ الاولیاءکے باسیوں کو نکاسی آب کے مسائل سے بہت بڑا ریلیف ملے گا سیوریج کے پانی کی ٹریٹمنٹ کے لیے بھی میگا پراجیکٹ پر عمل درآمد بارے تیزی سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار قومی حلقہ 156 میں 52 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر نیو شاہ شمس ڈسپوزل سٹیشن کے افتتاح کے موقع پر اہل علاقہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہم منصوبوں کے کیسز کی منظوری اور فنڈز کے حصول کے لیے لاہور جاتے تھے آج اللہ کے فضل و کرم سے پورے جنوبی پنجاب کا فیصلہ ملتان بیٹھے ہوئے کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے منشور میں جو وعدہ کیا تھا اس کو عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا ہے،صوبے کے خواب کو تعبیر ملنا شروع ہوگئی ہے، جنوبی پنجاب صوبے کی تکمیل کیلئے اختیارات کی منتقلی، سیکرٹریٹ کے قیام، افسران کی تعیناتی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے16 محکمے منتقل ہورہے ہیں جن کے سیکرٹری ملتان اور بہاولپور میں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے اتنی بڑی تبدیلی ہوئی ہے جس کا ابھی لوگوں کو اندازہ نہیں پنجاب کے سابق ادوار میں جنوبی پنجاب کے اضلاع کے فنڈز شفٹ کر دیئے جاتے تھے جس سے نہ صرف ایک سال میں مکمل ہونے والے منصوبے دس دس سالوں میں مکمل ہوتے تھے جس سے ان کی لاگت بہت بڑھ جاتی تھی اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا مگر اب پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں جنوبی پنجاب کی4 کروڑ آبادی کے 11 اضلاع کے لیے علیحدہ اے ڈی پی پرنٹ ہو گی ملتان،ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور ڈویژن کے اضلاع کے فنڈز اب اپر پنجاب میں شفٹ نہیں ہو سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگلا مرحلہ ملتان میں سول سیکرٹریٹ کا قیام ہے جنوبی پنجاب کے کے سیکرٹریوں کے لیے سرکٹ ہاﺅس میں عارضی دفاتر قائم کیے جا رہے ہیں مستقل سیکریٹریٹ کے لئے جوڈیشل کمپلیکس کے قریب سینکڑوں کنال سرکاری اراضی کے حصول کا کیس موو کر دیا گیا ہے۔