جنوبی کوریا میں یونفیکیشن چرچ پر رشوت کے الزامات، پولیس کے 10 مقامات پر چھاپے

سیئول ۔15دسمبر (اے پی پی):جنوبی کوریا میں سیاست دانوں کو مبینہ طور پر رشوت دینے کے الزامات کے تحت پولیس نےیونفیکیشن چرچ سے منسلک 10 مختلف مقامات پر چھاپے مارے۔یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق نیشنل پولیس ایجنسی کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے یونفیکیشن چرچ کی سربراہ ہان ہاک جا کی رہائش گاہ، چرچ کے سیول میں واقع مرکزی دفتر اور تین سیاست دانوں کے گھروں پر کارروائی کی۔ ہان ہاک …

سیئول ۔15دسمبر (اے پی پی):جنوبی کوریا میں سیاست دانوں کو مبینہ طور پر رشوت دینے کے الزامات کے تحت پولیس نےیونفیکیشن چرچ سے منسلک 10 مختلف مقامات پر چھاپے مارے۔یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق نیشنل پولیس ایجنسی کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے یونفیکیشن چرچ کی سربراہ ہان ہاک جا کی رہائش گاہ، چرچ کے سیول میں واقع مرکزی دفتر اور تین سیاست دانوں کے گھروں پر کارروائی کی۔ ہان ہاک جا ستمبر سے حراست میں ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق تفتیش کا مرکز چرچ کے مالیاتی ریکارڈ حاصل کرنا، رقوم کے بہاؤ کا سراغ لگانا اور ان قیمتی اشیا کی نشاندہی کرنا ہے جو مبینہ طور پر رشوت کے طور پر استعمال کی گئیں۔ہان ہاک جا پر الزام ہے کہ وہ سابق صدر یون سوک یول کی اہلیہ کم کیون ہی کو رشوت دینے کے معاملے میں ملوث رہیں۔

کم کیون ہی کے لیے مبینہ طور پر مہنگا ہار اور لگژری بیگز خریدے گئے، جن کے بدلے سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان تحائف کی خریداری کے لیے چرچ کے فنڈز میں خردبرد اور شواہد مٹانے کے احکامات دینے کے الزامات بھی شامل ہیں، جبکہ کم کیون ہی پر بیرون ملک جوا کھیلنے کے الزامات کی بھی تحقیقات جاری تھیں۔

واضح رہے کہ جنوبی کوریا کی آئینی عدالت نے 4 اپریل 2025 کو سابق صدر یون سوک یول کے مواخذے کی توثیق کر دی تھی، جس کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ان پر گزشتہ دسمبر میں مارشل لا نافذ کرنے کی ناکام کوشش کے الزامات تھے۔ بعد ازاں 26 جنوری کو انہیں بغاوت کے مبینہ سرغنہ کے طور پر حراست میں فردِ جرم عائد کی گئی۔