جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول نے اپنی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی

سیئول۔24فروری (اے پی پی):جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول نے اپنی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے، یہ سزا ان پر مارشل لا کے اعلان سے متعلق بغاوت کی قیادت کرنے کے الزام میں سنائی گئی تھی۔ شنہوا کے مطابق یون سک یول کی قانونی ٹیم نے اپیل کا نوٹس سیئول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ میں جمع کرایا، جس نے انہیں بغاوت کی قیادت …

سیئول۔24فروری (اے پی پی):جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول نے اپنی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے، یہ سزا ان پر مارشل لا کے اعلان سے متعلق بغاوت کی قیادت کرنے کے الزام میں سنائی گئی تھی۔ شنہوا کے مطابق یون سک یول کی قانونی ٹیم نے اپیل کا نوٹس سیئول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ میں جمع کرایا، جس نے انہیں بغاوت کی قیادت کرنے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔یون سک یول پر الزام ہے کہ انہوں نے جنگ، کسی بڑے واقعے یا اسی نوعیت کی ہنگامی صورتحال نہ ہونے کے باوجود غیر آئینی ہنگامی مارشل لا نافذ کر کے بغاوت کی منصوبہ بندی کی۔

ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے مارشل لا کے نفاذ کے لئے فوجیوں اور پولیس کو متحرک کر کے قومی اسمبلی (جنوبی کوریا) کی اس قرارداد کو روکنے کی کوشش کی جس کے ذریعے مارشل لا ختم کیا جا رہا تھا، اور اہم سیاسی شخصیات کو حراست میں لینے کی کوشش کی، جن میں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما اور پارلیمان کے سپیکر بھی شامل تھے۔

ہنگامی مارشل لا 3 دسمبر 2024 کی رات یون سک یول نے نافذ کیا تھا، تاہم چند گھنٹوں بعد قومی اسمبلی نے اسے منسوخ کر دیا۔بعد ازاں آئینی عدالت (جنوبی کوریا) نے اپریل 2025 میں یون سک یول کے مواخذے کی قرارداد کو برقرار رکھا اور انہیں باضابطہ طور پر عہدے سے ہٹا دیا۔یون سک یول کو جنوری 2025 میں بغاوت کے مبینہ سرغنہ کے طور پر حراست میں لے کر فردِ جرم عائد کی گئی تھی، اور وہ ملک کی تاریخ میں گرفتار اور فردِ جرم عائد ہونے والے پہلے حاضر سروس صدر بن گئے تھے۔

مزید خبریں