اسلام آباد۔8جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی کی ٹاسک فورس نے جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات کی روک تھام کے سلسلے میں سخت نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ خطرے والے علاقوں کی نشاندہی کر دی ہے اور صوبوں پر بھی زور دیا ہے کہ اس حوالے سے وضع کردہ نظام کو بروئے کار لانے کے لئے …
جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات کی روک تھام کے لیے زیادہ خطرے والے علاقوں کی نشاندہی کر دی گئی ،سینیٹر شیری رحمٰن
اسلام آباد۔8جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی کی ٹاسک فورس نے جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات کی روک تھام کے سلسلے میں سخت نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ خطرے والے علاقوں کی نشاندہی کر دی ہے اور صوبوں پر بھی زور دیا ہے کہ اس حوالے سے وضع کردہ نظام کو بروئے کار لانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔
بدھ کو یہاں ایڈیشنل سیکرٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی جودت ایاز اور آئی جی فاریسٹ راجہ محمد عمر کے ہمراہ میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگلات کے خطرے والے علاقوں کی نشاندہی پر مبنی ٹاسک فورس کی رپورٹ وزیراعظم کو ارسال کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہر صوبے کو جنگل کی آگ پر قابو پانے کے سلسلے میں وسائل مخصوص کرنے کے لیے کم اور زیادہ خطرے والے علاقوں کا تعین کرنا ہوگا، اس سلسلے میں روزانہ ہائی رسک والے علاقوں کی نگرانی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں کے متعلقہ محکمہ جنگلات وزارت کی ہدایات کے مطابق ویجی لینس ٹیمیں تشکیل دیں گے، اسی طرح ہائی رسک والے علاقوں کی نگرانی کے لیے جدید ترین ڈرون استعمال کیے جائیں گے۔ اس سے قبل ماحولیاتی انحطاط کے اثرات اور ملک کو درپیش چیلنجز بشمول آلودگی، گلوبل وارمنگ اور قدرتی وسائل کے انحطاط اور ان پر قابو پانے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی۔
سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ یہ ویڈیو میڈیا کے ساتھ شیئر کی گئی ہے تاکہ قوم اور عوام کے ساتھ ماحول کے تحفظ کی ذمہ داری قبول کی جا سکے کیونکہ عوام اور پالیسی سازوں کو ساتھ مل کر کام کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ذمہ داری کا معاملہ اور قدرتی ماحول کے تحفظ کا سفر ہے جہاں میڈیا مواصلات اور عوام کو متحرک کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
کوئی بھی خطہ اپنے لوگوں میں تبدیلی لائے بغیر تبدیل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو بالعموم اور پاکستان کو بالخصوص ماحولیاتی انحطاط کا سامنا ہے۔ ہم نے وزارت موسمیاتی تبدیلی میں ایک ٹاسک فورس بنائی اور جنگل میں لگنے والی آگ اور دریائے سندھ کا جائزہ لیا جس پر ہماری 90 فیصد زراعت کا انحصار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دریائے سندھ کے تحفظ کے لیے یہ ایک طویل عمل ہے اور اس منصوبے کا تصور صوبوں کے ساتھ ان کے تاثرات اور رائے کے لیے شیئر کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف مارگلہ میں ہی نہیں بلکہ تقریباً تمام دیگر علاقوں جیسے مری، کہوٹہ اور دیگر علاقوں میں بھی بار بار آگ لگ رہی ہے۔
اس پر قابو پانے کی کوششوں کے باوجود جنگل کی آگ ہمارے لیے پریشانی کا باعث بن چکی ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ مارگلہ میں دوبارہ تین مقامات پر آگ لگنے کی اطلاع ملی جن میں سے دو پر قابو پالیا گیا جبکہ تیسرے مقام پر آگ بجھانے کے لیے آپریشن جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں آگ کے واقعات کی روک تھام کے لئے احتیاط اور لوگوں میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وفاقی وزیر نے نے فائر فائٹرز کی بھی تعریف کی جو انتہائی مشکل علاقوں میں محدود آلات اور وسائل کے ساتھ شدید آگ کا سامنا کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم فائر فائٹرز کو ان کی کوششوں کے لیے خراج تحسین اور سلام پیش کرتے ہیں۔ دریں اثنا وفاقی وزیر نے اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے فائر فائٹرز اور کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے کنٹرول روم کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے جنگل میں بار بار لگنے والی آگ کے نقصانات کو کم کرنے میں مدد کی۔
انہوں نے بتایا کہ سویڈن میں سٹاک ہوم+50 کانفرنس میں شرکت کے دوران انہوں نے عالمی فورمز پر موسمیاتی سفارتکاری سر انجام دی۔ یہ ایک وزارت کا نہیں بلکہ سب کا مسئلہ ہے۔ ہم نے متعلقہ وزراء سے اگلے سال کے دوران پانی کے ذخائر اور ہیٹ ویو کے خطرات کو محفوظ رکھنے کے لیے حکمت عملی وضع کرنے کے لیے بات کی ہے۔
دریں اثنا وفاقی وزیر نے اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کا دورہ کیا اور پارک رینجرز کو جنگل کی آگ بجھانے کی کوششوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر اسناد عطا کیں۔









