حافظ طاہر محمود اشرفی کا فلسطینی سفارتخانہ کا دورہ

اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):وزیر اعظم پاکستان اور پاکستانی قوم کا فلسطین کے مسئلہ پر موقف جرات مندانہ اور فلسطینی حکومت اور عوام کیلئے باعث فخر اور اعزاز ہے ، پاکستان کی حکومت اور عوام کا اس جرات مندانہ موقف پر شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ ہماری جدوجہد اسرائیلی تسلط کے خلاف ہے ، فلسطینی عوام کی جدوجہد ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالخلافہ القدس ہو …

اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):وزیر اعظم پاکستان اور پاکستانی قوم کا فلسطین کے مسئلہ پر موقف جرات مندانہ اور فلسطینی حکومت اور عوام کیلئے باعث فخر اور اعزاز ہے ، پاکستان کی حکومت اور عوام کا اس جرات مندانہ موقف پر شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ ہماری جدوجہد اسرائیلی تسلط کے خلاف ہے ، فلسطینی عوام کی جدوجہد ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالخلافہ القدس ہو اور اس کی پاکستان اور اہل پاکستان نے ہمیشہ ہماری تائیدکی ہے ۔ یہ بات فلسطینی صدر محمود عباس نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے نام ایک خط میں کہی جو جمعرات کو فلسطینی سفیر احمد ربيعي نے چیئرمین پاکستان علماء کونسل و نمائندہ خصوصی وزیر اعظم برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کے سپرد کیا۔پاکستان علماء کونسل کی طرف سے جاری بیان کے مطابق حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے جمعرات کو فلسطینی سفارتخانہ کا دورہ کیا اور فلسطینی سفیر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔ اس موقع پر فلسطینی سفیر نے فلسطینی صدر کا پیغام نشر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کے موقف پر فلسطینی حکومت اور عوام وزیر اعظم عمران خان ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ممنون ہے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے بے بنیاد پراپیگنڈہ کے ذریعے پاکستان ، حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کے حوالہ سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے لیکن اہل فلسطین پاکستان کے موقف پر پاکستان کی حکومت اور عسکری قیادت کے شکر گذار ہیں ۔ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ آج فلسطینی سفارتخانہ میں فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے آیا ہوں ۔ افواہیں پھیلانے والوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ ہم دل و جان سے اہل فلسطین کے ساتھ ہیں ۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا تصور بھی عمران خان کی حکومت میں نہیں کیا جا سکتا ۔ پاکستان کے کسی بھی سطح پر نہ اسرائیل سے تعلقات تھے نہ ہیں ، نہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک ہوں گے۔