حضرت امام زین العابدینؑ کا یوم ولادت ملک بھر میں عقیدت و احترام سے منایا گیا

نواسہ رسولؐ حضرت امام حسینؓ کے بڑے صاحبزادے حضرت علی بن حسینؓ، المعروف امام زین العابدینؓ کا 1410واں یوم ولادت ملک بھر میں عقیدت و احترام سے منایا گیا۔ اس سلسلے کی سب سے بڑی تقریب مرکزی امام حسین کونسل کے زیر اہتمام ’’میلاد امام زین العابدینؓ کانفرنس‘‘ کے عنوان سے پنجاب آرٹس کونسل راولپنڈی میں منعقد ہوئی

راولپنڈی۔ 27 اکتوبر (اے پی پی):نواسہ رسولؐ حضرت امام حسینؓ کے بڑے صاحبزادے حضرت علی بن حسینؓ، المعروف امام زین العابدینؓ کا 1410واں یوم ولادت ملک بھر میں عقیدت و احترام سے منایا گیا۔ اس سلسلے کی سب سے بڑی تقریب مرکزی امام حسین کونسل کے زیر اہتمام ’’میلاد امام زین العابدینؓ کانفرنس‘‘ کے عنوان سے پنجاب آرٹس کونسل راولپنڈی میں منعقد ہوئی جس کی صدارت ممتاز اسکالر اور مرکزی امام حسین کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر غضنفر مہدی نے کی۔ ڈاکٹر غضنفر مہدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام زین العابدینؓ نے اپنے جد امجد رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے وسط ایشیا اور عرب کے ہزاروں قبائل کو اسلام کی دعوت دی۔ مہمان خصوصی سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ سانحہ کربلا کے بعد حضرت امام زین العابدینؓ نے اسیری کی حالت میں کربلا سے شام تک 1665 میل کا سفر کیا اور مختلف مقامات پر اپنے والد حضرت امام حسینؓ کی عظیم قربانیوں کا پیغام عام کیا۔

ان کی جدوجہد نے یزیدی طرز فکر کے خلاف حق و صداقت کا پیغام اجاگر کیا۔ کشمیری رہنما علامہ ڈاکٹر حسین احمد ہمدانی نے کہا کہ حضرت امام زین العابدینؓ کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے کشمیریوں کی جدوجہد حق خودارادیت کامیابی سے ہمکنار ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کر چکی ہے۔ کانفرنس سے پنجاب آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر اکرم قریشی، عالمی شہرت یافتہ اسکالر خانم سیدہ طیبہ بخاری، خانم صائمہ بتول علوی، راشدہ بنت عباس، خانم مدیحہ حسین عابدی، اخلاق حسین زیدی، محمد رفیق مغل، سید رضا کاظمی، عظمیٰ رضا، وارث تنولی اور دیگر علما و مشائخ نے خطاب کیا اور حضرت امام زین العابدینؓ کی تعلیمات پر روشنی ڈالی۔ کانفرنس کے اختتام پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں وزیراعظم پاکستان سے اپیل کی گئی کہ دختر رسول حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے یوم شہادت، 3 جمادی الثانی اور یوم ولادت، 20 جمادی الثانی کو سرکاری سطح پر منانے کا اہتمام کیا جائے۔

کانفرنس میں غیر ملکی سفارتی نمائندوں اور ملک کے تمام حصوں سے تعلق رکھنے والے مختلف مکاتب فکر کے علما و مشائخ نے شرکت کی۔