حق مہر بیوی کا لازمی قانونی حق، نکاح نامہ محض سرکاری ریکارڈ نہیں بلکہ حقوق کے ثبوت کی دستاویز ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ حق مہر نکاح کا لازمی قانونی حق ہے، یہ بیوی کی ملکیت ہوتا ہے اور شوہر یا اس کے رشتہ دار اسے بیوی کی آزاد مرضی کے بغیر ختم یا معاف نہیں کرا سکتے

اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ حق مہر نکاح کا لازمی قانونی حق ہے، یہ بیوی کی ملکیت ہوتا ہے اور شوہر یا اس کے رشتہ دار اسے بیوی کی آزاد مرضی کے بغیر ختم یا معاف نہیں کرا سکتے۔ عدالت نے قرار دیا کہ نکاح نامہ شادی کا معاہدہ خود نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ نکاح اور اس کی شرائط کا سرکاری ثبوت ہے۔چار رکنی بینچ نے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں CPLA نمبر 372-P/2019 سمیت دیگر مقدمات کے فیصلے میں مسلم نکاح، حق مہر اور نکاح نامہ سے متعلق اہم قانونی اصول وضع کیے۔ بینچ میں جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے جبکہ مقدمات کی سماعت 8 جولائی 2026 کو ہوئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ نکاح محض عام سول معاہدہ نہیں بلکہ منفرد قانونی ادارہ ہے جو رضامندی سے قائم ہوتا ہے، شریعت کے تحت منظم، قانون میں تسلیم شدہ اور آئین کے تحت محفوظ ہے۔ نکاح کے نتیجے میں حق مہر سمیت بعض بنیادی حقوق و ذمہ داریاں فریقین کی الگ سے شرط کے بغیر بھی قانون کے تحت پیدا ہوتی ہیں۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ حق مہر بیوی کا خصوصی مالی حق ہے، اسے خیرات یا شوہر کی طرف سے احسان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عدالتوں کو حق مہر سے متعلق قوانین کی تشریح اس انداز میں کرنی چاہیے جس سے بیوی کے قانونی حق کا مؤثر تحفظ یقینی ہو، تاہم فریقین کے ثابت شدہ معاہدے سے تجاوز بھی نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت کے مطابق اگر حق مہر کے طور پر غیر منقولہ جائیداد مقرر کی گئی ہو لیکن بعد میں وہ جائیداد بیوی کو منتقل نہ ہوسکے تو اس سے شوہر کی حق مہر ادا کرنے کی ذمہ داری ختم نہیں ہوگی۔ ایسی صورت میں شوہر طے شدہ مالیت ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا، جبکہ مالیت طے نہ ہونے کی صورت میں عدالت حق مہر کی وصولی کے دعوے پر فیصلہ یا ڈگری کے وقت جائیداد کی مارکیٹ ویلیو کا تعین کرسکتی ہے۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ نکاح نامہ کے مختلف خانوں کو الگ الگ نہیں پڑھا جاسکتا، بلکہ ان کی باہم ہم آہنگ تشریح ضروری ہے۔ خانہ 13 حق مہر کی مقدار، خانہ 14 فوری اور مؤخر حق مہر، خانہ 15 نکاح کے وقت ادا کیے گئے مہر اور خانہ 16 حق مہر کے عوض دی جانے والی جائیداد اور اس کی متفقہ مالیت سے متعلق ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ نکاح نامہ میں کسی اندراج کے مبہم، نامکمل یا غلط ہونے کا دعویٰ کرنے والے فریق پر اس سرکاری ریکارڈ کو چیلنج کرنے کی ذمہ داری ہوگی۔ محض زبانی تردید کافی نہیں ہوگی بلکہ واضح، قابلِ اعتماد اور مسلسل شہادت پیش کرنا ہوگی۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر نکاح نامہ میں درج جائیداد شوہر کی ملکیت یا قبضے میں نہ ہو، یا بعد میں وہ اس کی ملکیت میں نہ رہے، تو شوہر اپنی اس ذمہ داری سے بچ نہیں سکتا جو اس نے حق مہر کے طور پر قبول کی تھی۔ عدالت نے کہا کہ نکاح نامہ میں جائیداد کو حق مہر کے طور پر درج کرنا عموماً اسے منتقل کرنے کے معاہدے یا وعدے کا ثبوت ہوتا ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ حق مہر کے تنازعات کو عام تجارتی مقدمات کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، تاہم عدالتیں ثبوت کے طے شدہ اصولوں سے انحراف بھی نہیں کرسکتیں۔ جہاں نکاح نامہ کی عبارت ایک سے زیادہ تشریحات کی گنجائش رکھتی ہو، وہاں عدالت فریقین کی اصل رضامندی، شادی کے وقت کے حالات، بعد کے قابلِ اعتماد طرزِ عمل، نکاح نامہ کی تمام شقوں اور متعلقہ اسلامی و قانونی اصولوں کو مدنظر رکھے گی۔عدالت نے قرار دیا کہ نکاح نامہ کے اندراجات کا مقصد فریقین کے حقوق کو محفوظ کرنا ہے، اس لیے کسی تکنیکی خامی یا ریکارڈنگ کی غلطی کی بنیاد پر فریقین کے حقیقی طور پر طے شدہ حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے۔ تاہم عدالت ایسا حق بھی پیدا نہیں کرسکتی جو فریقین نے کبھی طے ہی نہ کیا ہو۔ سپریم کورٹ نے زیرِ سماعت مقدمات کے انفرادی حقائق اور میرٹ پر رائے دینے سے گریز کرتے ہوئے قرار دیا کہ ہر مقدمہ متعلقہ بینچ کے سامنے دستیاب شہادت اور قانون کی روشنی میں الگ سے فیصلہ کیا جائے گا۔

مزید خبریں