استنبول۔5نومبر (اے پی پی):اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈیویلپمنٹ نے حلال معیشت کے فروغ ، پائیدار سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے 2030 حکمت عملی کا اجرا ءکر دیا۔ اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈویلپمنٹ کے صدر عبداللہ صالح کامل نےان خیالات کا اظہار آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (COMCEC) کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے 41ویں اجلاس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہاکہ حلال معیشت مربوط …
حلال معیشت کے فروغ ، پائیدار سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے 2030 حکمت عملی کا اجرا ءکر دیا گیا

مزید خبریں
استنبول۔5نومبر (اے پی پی):اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈیویلپمنٹ نے حلال معیشت کے فروغ ، پائیدار سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے 2030 حکمت عملی کا اجرا ءکر دیا۔ اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈویلپمنٹ کے صدر عبداللہ صالح کامل نےان خیالات کا اظہار آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (COMCEC) کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے 41ویں اجلاس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہاکہ حلال معیشت مربوط اسلامی اقتصادی نظام کا ایک سٹریٹجک ستون بن گیا ہے، جو اسلامی مالیات کے ساتھ ساتھ اس کے دو ضروری شعبوں میں سے ایک کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وقت آگیا ہے کہ عالمی حلال نظام کی تشکیل نو کی جائے اور قانون سازی اور اس شعبے پر کنٹرول کرنے والے اداروں کو یکجا کیا جائے تاکہ عالمی معیشت میں اسلامی ممالک کا موقف اور حیثیت مستحکم ہو ۔
آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے 41 ویں اجلاس کا افتتاح ترک صدر رجب طیب ایردوان نے استنبول کانگریس سینٹر میں کیا۔ اجلاس میں رکن ممالک کے وزرائے اقتصادیات اور تجارت کے علاوہ اسلامی اور بین الاقوامی تنظیموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ عبداللہ صالح کامل نے کہا کہ حلال کا تصور اپنی مذہبی اہمیت سے بڑھ کر پیداوار اور کھپت میں الہی اقدار پر مبنی ایک جامع عالمی معاشی نظام کو مجسم بناتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ معیار کو یکجا کرنے والی مصنوعات اور خدمات کی بڑھتی ہوئی عالمی مانگ کے درمیان یہ نظام بین الاقوامی سطح کی رفتار حاصل کر رہا ہے۔
عبداللہ صالح کامل نے جدید اقدامات کے ذریعے عالمی حلال معیشت کو آگے بڑھانے میں سعودی عرب کے اہم کردار پر روشنی ڈالی جس کا مقصد اس امید افزا شعبے میں اسلامی ممالک کی پوزیشن کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے حلال مصنوعات کی ترقی کے لیے ایک خصوصی کمپنی کے قیام کے لیے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے اقدام کو سراہتے ہوئے اسے عالمی حلال منظر نامے کو نئی شکل دینے اور بین الاقوامی اثر و رسوخ کے ساتھ سعودی صنعت کی تعمیر کی جانب ایک اسٹریٹجک اقدام قرار دیا۔انہوں نے سعودی وزیر تجارت ماجد بن عبداللہ القصبی کی طرف سے مشترکہ اقدامات بالخصوص مکہ حلال فورم، جو چیمبر کے سب سے اہم مجوزہ منصوبوں میں سے ایک ہے، کی مسلسل حمایت پر بھی تعریف کی۔
عبداللہ صالح کامل نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی وزیر تجارت کی حمایت سعودی عرب کےشہر مکہ کو اسلامی معیشت اور اس کی مستند اقدار کے لیے ایک عالمی مرکز کے طور پر پوزیشن دینے کے پرعزم وژن کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مکہ حلال فورم ایک عالمی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے جس نے فیصلہ سازوں، سرمایہ کاروں، اور تمام براعظموں کے ماہرین کوایک جگہ جمع ہونے کا موقع فراہم کیا ہے ۔اسلامک چیمبر اسے ایک سالانہ اجتماع بنانے کے لیے کام کر رہا ہے جو مکہ کو اسلامی معیشت کے لیے ایک مرکز کے طور پر قائم کرنے میں مملکت کے اہم کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔ فورم کا مقصد معیارات کو یکجا کرنا، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دینا، اور حلال مصنوعات، فنانسنگ اور عالمی مارکیٹنگ میں جدت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈویلپمنٹ کی 2030 کی حکمت عملی حلال اور اسلامی مالیاتی شعبوں کو بااختیار بنا کر اسلامی ممالک کے درمیان اقتصادی انضمام کو گہرا کرنے کی کوشش ہے جو جدید اسلامی معیشت کے دو اہم ستون ہیں جو کاروباری اور پائیدار ترقی میں ادارہ جاتی کوششوں کا احیا کرتے ہیں ۔
عبداللہ صالح کامل نے او آئی سی کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ انسانی سرمائے اور نوجوانوں میں سرمایہ کاری کریں، اور اقتصادی انضمام کے حصول کے لیے اپنی کوششوں کو متحد کریں جو اسلامی اقدار کی عکاسی کرتا ہے اور عالمی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتاہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حلال معیشت اسلامی دنیا کے لیے مستقبل کی ترقی کے انجن کی نمائندگی کرتی ہے اور پائیدار عالمی معیشت میں قیادت کے لیے ایک اہم کلید ہے۔








