حکومتِ پاکستان کی ثقافتی ورثے کے تحفظ کیلئے اہم کامیابی، وادیِ کیلاش یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل

پاکستان نے اپنے قدیم اور منفرد ثقافتی ورثے کے تحفظ اور عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی جانب ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے،

اسلام آباد۔29اپریل (اے پی پی):پاکستان نے اپنے قدیم اور منفرد ثقافتی ورثے کے تحفظ اور عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی جانب ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جہاں خیبرپختونخوا کی تاریخی وادیِ کیلاش کو عالمی ادارے یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ فہرست میں شامل کر لیا گیا۔حکام کے مطابق یہ پیش رفت حکومتِ پاکستان کی ان مسلسل کاوشوں کا مظہر ہے جو ملکی تہذیب، ثقافت اور تاریخی شناخت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کیلئے جاری ہیں۔کیلاش ویلی کا ثقافتی منظرنامہ ایک غیر معمولی طور پر محفوظ قدیم معاشرے کی عکاسی کرتا ہے جہاں صدیوں پرانی روایات، مذہبی رسومات، زبان، موسیقی، رقص اور طرزِ زندگی آج بھی اپنی اصل شکل میں موجود ہیں۔ وادیِ کیلاش خیبرپختونخوا کے کوہِ ہندوکش کے دور افتادہ علاقوں بمبوریت، رمبور اور بریر میں واقع ہے جہاں آباد کیلاش برادری اپنی جداگانہ ثقافتی شناخت کے باعث دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتی ہے۔

ماہرین کے مطابق وادیِ کیلاش کا منفرد جغرافیہ اور دشوار گزار پہاڑی ماحول اس ثقافت کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے جس کے باعث یہاں کی تہذیبی روایات بیرونی اثرات سے بڑی حد تک محفوظ رہیں۔ یہی انفرادیت اسے عالمی ثقافتی اہمیت کا حامل بناتی ہے۔ماہرینِ ثقافت اور سماجی حلقوں نے وادیِ کیلاش کو یونیسکو کی عالمی ورثہ فہرست میں شامل کیے جانے کو پاکستان کیلئے ایک بڑی سفارتی، ثقافتی اور سیاحتی کامیابی قرار دیا ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف پاکستان کا مثبت اور روشن تشخص دنیا بھر میں اجاگر ہوگا بلکہ ملکی سیاحت، ثقافتی تحقیق اور بین الاقوامی روابط کو بھی فروغ ملے گا۔تجزیہ کاروں کے مطابق یونیسکو کی جانب سے وادیِ کیلاش کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دینا دراصل پاکستان میں مذہبی رواداری، ثقافتی تنوع اور اقلیتی برادریوں کے تحفظ کے حوالے سے عالمی اعتراف ہے۔ یہ اقدام اس امر کا بھی ثبوت ہے کہ پاکستان اپنی قدیم تہذیبی شناخت اور ثقافتی سرمائے کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اور متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔