اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026 اسلام آباد میں جاری کی گئی جس میں سال 2025ء کے دوران 135 وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور ان سے منسلک اداروں میں نافذ کئے گئے 600 سے زائد حکومتی اصلاحات کی دستاویز بندی کی گئی ہے۔پیر کو منتظمین کے مطابق یہ رپورٹ مشعل پاکستان نے تیار کی ہے جو ورلڈ اکنامک فورم کا ملکی شراکت دار ادارہ ہے۔ یہ رپورٹ دوسری سالانہ …
پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026 جاری، 600 سے زائد حکومتی اصلاحاتی اقدامات کی دستاویزبندی

مزید خبریں
اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026 اسلام آباد میں جاری کی گئی جس میں سال 2025ء کے دوران 135 وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور ان سے منسلک اداروں میں نافذ کئے گئے 600 سے زائد حکومتی اصلاحات کی دستاویز بندی کی گئی ہے۔پیر کو منتظمین کے مطابق یہ رپورٹ مشعل پاکستان نے تیار کی ہے جو ورلڈ اکنامک فورم کا ملکی شراکت دار ادارہ ہے۔
یہ رپورٹ دوسری سالانہ اشاعت ہے اور اسے پاکستان میں حکومتی اصلاحات کی پہلی منظم اور جامع دستاویز بندی قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق اصلاحاتی سرگرمیوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پالیسی ترجیحات میں بحران سے نمٹنے کے مرحلے سے ہٹ کر طویل المدتی ریاستی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی جانب واضح تبدیلی آئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں تقریباً 40 فیصد اصلاحات کی گئیں جبکہ اس کے بعد قانون و انصاف اور ڈیجیٹل گورننس و آئی ٹی کے شعبے نمایاں رہے جو ساختی اور ڈیجیٹل تبدیلی پر زور کو ظاہر کرتا ہے۔200 سے زائد اصلاحات ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نافذ کی گئیں جن کا مقصد شفافیت میں اضافہ اور انتظامی صوابدید کو کم کرنا تھا۔
مالیاتی اور توانائی کے شعبے میں اقدامات جن میں (آئی پی پیز) کے معاہدوں کی نظرثانی شامل ہے، سے پاور سیکٹر میں تقریباً 1.4 ٹریلین روپے کی بچت متوقع ہے۔رپورٹ میں قدرتی وسائل کی ترقی میں پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں 6 ارب ڈالر کا ریکوڈک تانبہ و سونا منصوبہ اور ٹائٹ گیس و آف شور ایکسپلوریشن سے متعلق نئی پالیسیاں شامل ہیں جن کے ذریعے تقریباً 5 ارب ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری کو ہدف بنایا گیا ہے۔
تقریب اجراء کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے شفاف اور مستند دستاویز بندی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عوامی اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے اور پاکستان کی ساکھ بین الاقوامی شراکت داروں اور سرمایہ کاروں کے درمیان بہتر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ شفاف اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ عوامی مباحثے کو محض پالیسی اعلانات سے نکال کر عملی نفاذ اور نتائج کی جانب لے جاتی ہے۔
مشعل پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر جہانگیر نے کہا کہ اس رپورٹ کا مقصد حکومتی اصلاحات کی ایک ادارہ جاتی یادداشت تشکیل دینا ہے تاکہ سال بہ سال تقابل اور طویل المدتی تجزیہ ممکن ہو سکے۔مشعل پاکستان کی شریک بانی پورویش چوہدری نے کہا کہ یہ اقدام خاص طور پر ڈیجیٹل گورننس، انصاف کی فراہمی اور شہری خدمات میں رسائی، شفافیت اور اعتماد بہتر بنانے والی اصلاحات کو دستاویزی شکل دینے پر مرکوز ہے۔
رپورٹ کے مطابق اصلاحات کی ایک بڑی تعداد اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف امن، انصاف اور مضبوط ادارے سے ہم آہنگ ہےجو ادارہ جاتی مضبوطی، قانون کی حکمرانی،احتساب، ضابطہ جاتی اصلاحات اور عوامی معلومات تک رسائی پر پالیسی توجہ کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ ان پیش رفتوں کو سال 2025ء کے وسیع تر قومی تناظر میں رکھتی ہے جو مالی دبائو، سکیورٹی چیلنجز اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے عبارت تھاتاہم اس کے باوجود اصلاحاتی عمل خاص طور پر ڈیجیٹائزیشن اور ضابطہ جاتی اصلاحات میں جاری رہا۔
منتظمین نے واضح کیا کہ یہ رپورٹ کارکردگی کا جائزہ یا سیاسی درجہ بندی نہیں بلکہ ایک دستاویزی کاوش ہے جس کا مقصد محققین، پالیسی سازوں، سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کو پاکستان کے بدلتے ہوئے حکومتی منظرنامے کو سمجھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔مشعل پاکستان کی جانب سے رپورٹ کی مکمل اشاعت آن لائن دستیاب کر دی گئی ہے۔








