بلوچستان میں فن، ثقافت اور پرفارمنگ آرٹس کے فروغ کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف کلچر، حکومت بلوچستان اور نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (این اے پی اے) کے درمیان مفاہمتی یاداشت (ایم او یو) پر دستخط ہو گئے
حکومت بلوچستان اور نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کے درمیان مفاہمتی یاداشت پر دستخط

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 12 اکتوبر (اے پی پی):بلوچستان میں فن، ثقافت اور پرفارمنگ آرٹس کے فروغ کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف کلچر، حکومت بلوچستان اور نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (این اے پی اے) کے درمیان مفاہمتی یاداشت (ایم او یو) پر دستخط ہو گئے۔اس سلسلے میں پیر کو کوئٹہ میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں این اے پی اے کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز سید جاوید اقبال، معروف سماجی کارکن اور سابق سینیٹر روشن خورشید بروچہ، سینئر فنکاروں، میڈیا نمائندوں، ثقافتی شخصیات اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔یہ معاہدہ بلوچستان میں فن و ثقافت کے فروغ اور پرفارمنگ آرٹس کے شعبے کو ترقی دینے کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف کلچر کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس سلسلے میں سیکرٹری کلچر، ٹورازم اینڈ آرکائیوز حمید اللہ ناصر اور ڈائریکٹر کلچر دائود ترین کی کاوشیں قابلِ ذکر ہیں جن کا مقصد صوبے میں فنونِ لطیفہ کے معیار کو بہتر بنانا اور مقامی فنکاروں کو تربیت اور ترقی کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔
تقریب کے دوران سید جاوید اقبال، روشن خورشید بروچہ اور دیگر معزز مہمانوں نے اس اشتراک کو بلوچستان میں فن و ثقافت کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تعاون کے ذریعے صوبے کے نوجوانوں اور فنکاروں کو ڈرامہ، موسیقی، تھیٹر اور دیگر فنونِ لطیفہ میں پیشہ وارانہ تربیت اور رہنمائی کے مواقع میسر آئیں گے۔سیکرٹری کلچر حمید اللہ ناصر اور ڈائریکٹر کلچر دائود ترین نے اس پیش رفت کو بلوچستان کے ثقافتی مستقبل کے لیے اہم قدم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس اشتراک سے صوبے کے فنکاروں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور بلوچستان کے ثقافتی ورثے کو قومی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔تقریب کے شرکاء نے اس معاہدے کو بلوچستان میں پرفارمنگ آرٹس کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات صوبے کے مثبت ثقافتی تشخص کو اجاگر کرنے اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔







