حکومت بلوچستان کی سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور عوامی فلاح کے حوالے سے پلاننگ کمیشن آف پاکستان کو تجویز
حکومت بلوچستان کی سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور عوامی فلاح کے حوالے سے پلاننگ کمیشن آف پاکستان کو تجویز

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 22 جون (اے پی پی):حکومت بلوچستان نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور عوامی فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے پلاننگ کمیشن آف پاکستان کو تجویز پیش کی ہے کہ بلوچستان کے سیلاب زدہ اضلاع کے لیے مختص باقی ماندہ دستیاب وسائل کو انفرادی ہاؤسنگ یونٹس کے بجائے کمیونٹی انفراسٹرکچر کے اجتماعی منصوبوں پر خرچ کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ آبادی اس سے مستفید ہو سکے اور سیلاب سے متاثرہ بنیادی ڈھانچے کی مؤثر بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ تجویز پیر کے روز اسلام آباد میں منعقد ہونے والے IFRAP کی سٹینڈنگ کمیٹی کے گیارہویں اجلاس میں پیش کی گئی، جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کی۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ویڈیو لنک کے ذریعے اپنی ٹیم کے ہمراہ شریک ہوئے ۔اجلاس کو بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر اور بحالی کے منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اس موقع پر بلوچستان حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ منصوبے کے لیے مختص دستیاب وسائل کو انفرادی تعمیرات تک محدود رکھنے کے بجائے کمیونٹی انفراسٹرکچر، بشمول سڑکوں، آبنوشی، نکاسی آب، تعلیمی و صحت کی سہولیات اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں پر صرف کیا جائے تاکہ وسیع پیمانے پر متاثرہ آبادی کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔
اجلاس میں حکومت بلوچستان کی تجویز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ پلاننگ کمیشن نے تجویز سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اسے متعلقہ ڈونر ایجنسی کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ وسائل کے مؤثر اور عوامی مفاد پر مبنی استعمال کو یقینی بنایا جا سکے ۔اجلاس کے دوران IFRAP منصوبے کی مالی اور فزیکل پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا اور منصوبے کے مختلف اجزاء پر عملدرآمد کی رفتار، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے عمل کو تیز کرتے ہوئے دستیاب وسائل کو زیادہ سے زیادہ عوامی فائدے کے لیے استعمال میں لایا جائے۔








