اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ بہتر تعمیل، زیادہ شفافیت اور موثر ٹیکس نظام پاکستان کی معاشی بحالی کے مرکزی ستون ہیں،حکومت جدت، رسمی معیشت اور ذمہ دارانہ ترقی کی حوصلہ افزائی پر مبنی کاروباری ماحول پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بات پیرکویہاں نیسلے پاکستان کے وفد سے ملاقات میں گفتگو کے دوران کہی۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ حکومت رسمی معیشت کو …
حکومت جدت، رسمی معیشت اور ذمہ دارانہ ترقی کی حوصلہ افزائی پر مبنی کاروباری ماحول پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے، وزیرخزانہ محمداورنگزیب

مزید خبریں
اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ بہتر تعمیل، زیادہ شفافیت اور موثر ٹیکس نظام پاکستان کی معاشی بحالی کے مرکزی ستون ہیں،حکومت جدت، رسمی معیشت اور ذمہ دارانہ ترقی کی حوصلہ افزائی پر مبنی کاروباری ماحول پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بات پیرکویہاں نیسلے پاکستان کے وفد سے ملاقات میں گفتگو کے دوران کہی۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ حکومت رسمی معیشت کو مضبوط بنانے اور اور ذمہ دارو طویل المدتی سرمایہ کاری کو فروغدینے میں پرعزم ہے، وزیرِ خزانہ نے غیر رسمی شعبے پر کڑی نگرانی کے حکومتی عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے شروع کی گئی کوششوں کے متعدد صنعتوں میں واضح نتائج سامنے آرہے ہیں ، بہتر تعمیل، زیادہ شفافیت اور موثر ٹیکس نظام پاکستان کی معاشی بحالی کے مرکزی ستون ہیں۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ وزارت خزانہ میں ٹیکس پالیسی آفس کا قیام ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے حوالہ سے ایک بڑاقدم ہے ، اس سے نجی شعبے کے ساتھ پورا سال مستقل رابطے کی سہولت میسرہوگی اوراس کے نتیجے میں پالیسی میں بہتری اور اگلے بجٹ سے قبل موثرمشاورتی عمل درآمد کو ممکن بنایاجاسکے گا،نیسلے پاکستان کے وفد کی قیادت چیف ایگزیکٹو آفیسر جیسن ایون سینا کر رہے تھے جبکہ چیف فنانشل آفیسر مقصود احمد انجم اور ہیڈ آف کارپوریٹ افیئرز اینڈ سسٹین ایبلٹی شیخ وقار احمد بھی ان کے ہمراہ تھے۔
وفد نے وزیرِ خزانہ کو پاکستان کے ساتھ نیسلے کے دیرینہ تعلق اور مستقبل کی توسیعی منصوبہ بندی سے آگاہ کیا۔چیف ایگزیکٹوآفیسر نے کمپنی کی کاروباری مضبوطی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ نیسلے نے مقامیت ، پورٹ فولیو ایڈجسٹمنٹ، جدید آٹومیشن، کارکردگی میں بہتری اور مصنوعات میں مسلسل جدت کے ذریعے اپنے آپریشنز کو مستحکم کیا ہے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی پر مبنی مینوفیکچرنگ میں نیسلے پاکستان کی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا اور بتایا کہ شیخوپورہ اور خانیوال کی فیکٹریاں مکمل طور پر خودکار اور عالمی ڈائیگناسٹک نظام سے منسلک ہیں، جس سے پاکستان میں نیسلے کے آپریشنز عالمی معیار کی تنصیبات کے برابر ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ کمپنی میں پائیداری، زرعی خدمات کی تبدیلی، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کے لیے جاری اور آئندہ آنے والی سرمایہ کاری پر کام ہو رہا ہے،نیسلے شمسی اور بائیو ماس توانائی کے نظام، ڈیجیٹل ڈیش بورڈز، ماحول دوست پیکیجنگ اور سپلائی چین کی آٹومیشن پر عمل کر رہی ہے جس سے اخراجات اور گرین ہائوس گیسوں میں کمی آ رہی ہے اور کمپنی کی طویل المدتی مسابقت مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ وفد نے بتایا کہ مقامی ویلیو کری ایشن کے فروغ کے وسیع تر عمل کے تحت نیسلے کی لوکلائزیشن کی کوششوں نے کمپنی کی مضبوطی کو واضح طور پر بڑھایا ہے۔
مسلسل کوششوں کے ذریعے خام مال کی مقامی خرید اور پروڈکٹ پورٹ فولیو کی از سرِ نو تشکیل کے نتیجے میں نیسلے پاکستان نے پچھلے تین برسوں میں درآمدات کے حجم کو تقریباً نصف تک کم کیا ہے پہلے درآمدات تقریباً 150 ملین ڈالرتھیں جو اب 76 سے 80 ملین ڈالر کے درمیان ہے ، اس اقدام سے زرِ مبادلہ کے دبائومیں کمی اور پاکستان کے زرعی و پیداواری شعبوں کے ساتھ انضمام میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیرِ خزانہ نے مقامی وسائل پرانحصارکی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ حکومت کا ارادہ ہے کہ خوراک و مشروبات کے شعبے میں مزید رسمی معیشت اور ٹیکس کے منصفانہ نظام کو فروغ دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں تمباکو کے شعبے میں نظر آنے والی پیش رفت یک ایسا ماڈل ہے جسے دیگر صنعتوں مثلاً پیکڈ جوسز میں بھی اپنایا جا سکتا ہے جہاں غیر رسمی کھلاڑی ٹیکس نیٹ سے باہر رہ کر تیزی سے مارکیٹ شیئر بڑھا رہے ہیں۔ وزیرخزانہ نے نیسلے پاکستان کی جانب سےوزارت خزانہ کے ٹیکس پالیسی آفس کے ساتھ ممکنہ اصلاحات پر کام کرنے کے لیے آمادگی کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ اس سے ٹیکس وصولی بہتر ہوگی، شعبہ جاتی بے ضابطگیاں کم ہوں گی اور عوامی مفاد کے اہداف کو برقرار رکھتے ہوئے مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ مل سکے گا۔ وفد نے کمپنی کی برآمدات کا بھی ذکر کیا جس میں امریکہ، کینیڈا، خلیجی ممالک اور برطانیہ جیسی منڈیاں شامل ہیں، وفد نے علاقائی تجارت خصوصاً افغان ٹریڈ سے متعلق چیلنجز سے آگاہ کیا۔
وزیرِ خزانہ نے وسط ایشیائی ممالک تک رسائی کے لیے لاجسٹک پارٹنرشپس کے امکانات پر غور کرنے کا مشورہ دیا اور یقین دلایا کہ حکومت برآمدی صنعت کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ نیسلے کی آئندہ برسوں میں پائیداری، زرعی تبدیلی، آٹومیشن اور ڈیری غذائیت میں پیداوار بڑھانے کے منصوبوں کے تناظر میں وفد نے عالمی سطح پر ان منصوبوں کے اعلان کی خواہش کا اظہار کیا۔ عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ نیسلے کی عالمی قیادت،جس میں زون ایشیا، اوشیانا اور افریقہ کے ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ ریمی ایجل بھی شامل ہیں،اس اجلاس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں اور وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے خواہاں ہیں۔
ایسی ملاقات نیسلے کی سرمایہ کاری ترجیحات کو تفصیل سے پیش کرنے اور پائیداری سے جڑی فوڈ سائنس، جدید مینوفیکچرنگ اور ویلیو ایڈیڈ نیوٹریشن کے شعبوں میں پاکستان کی صلاحیت اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔ وزیرِ خزانہ نے تجویز خیرمقدم کیااور بتایا کہ وزیرِ اعظم کی ڈیووس میں شرکت کی اطلاع عالمی اقتصادی فورم کو دے دی گئی ہے اور حکومت اس ملاقات میں سہولت فراہم کرے گی۔
وزیرِ خزانہ نے کہاکہ نیسلے پاکستان ملک کے سب سے نمایاں کثیر القومی سرمایہ کاروں میں سے ایک ہے اور حکومت جدت، رسمی معیشت اور ذمہ دارانہ ترقی کی حوصلہ افزائی پر مبنی کاروباری ماحول پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیسلے پاکستان اور ٹیکس پالیسی آفس کے درمیان بات چیت جاری رہے گی تاکہ پالیسی کے ایسے آپشنز پر بروقت ہم آہنگی قائم کی جا سکے جو ملکی صنعت کو مضبوط بنانے، پائیداری کے اہداف کے حصول میں مدد دینے اور پاکستان کی علاقائی و عالمی منڈیوں میں پوزیشن بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں۔








