حکومت سرکاری ونجی شعبہ کی شراکت داری پرمبنی منصوبوں کے موثر نفاذ کیلئے پرعزم ہے،منصوبوں کے موثر نفاذ اور بروقت عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے موجودہ قوانین اور پالیسیز میں تبدیلی لانے کیلئے تیارہیں، وفاقی وزیر احد چیمہ

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن احد چیمہ نے کہاہے کہ حکومت سرکاری اورنجی شعبہ کی شراکت داری پرمبنی منصوبوں کے موثر نفاذ کے لیے پرعزم ہے،منصوبوں کے موثر نفاذ اور بروقت عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے موجودہ قوانین اور پالیسیز میں تبدیلی لانے کیلئے تیارہیں۔انہوں نے یہ بات منگل کویہاں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی)اتھارٹی کے فریم ورک اور حکمت عملی سے …

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن احد چیمہ نے کہاہے کہ حکومت سرکاری اورنجی شعبہ کی شراکت داری پرمبنی منصوبوں کے موثر نفاذ کے لیے پرعزم ہے،منصوبوں کے موثر نفاذ اور بروقت عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے موجودہ قوانین اور پالیسیز میں تبدیلی لانے کیلئے تیارہیں۔انہوں نے یہ بات منگل کویہاں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی)اتھارٹی کے فریم ورک اور حکمت عملی سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، مشیر نجکاری محمد علی، سیکریٹری خزانہ اور وزارت خزانہ، نجکاری، قانون اور منصوبہ بندی کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے حکام نے منصوبوں کی موجودہ صورتحال پر جامع بریفنگ دی جس میں منصوبہ جاتی ترقی کی پیش رفت، استعداد کے مسائل، مارکیٹ کے حالات اور پاکستان میں پی پی پی کے نظام کو مضبوط بنانے کی مجموعی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفاقی وزیر احد چیمہ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے موثر نفاذ کے لیے پرعزم ہے،حکومت اس امر کے لیے تیار ہے کہ اگر ضروری ہو تو موجودہ قوانین اور پالیسیز میں تبدیلی کی جائے تاکہ منصوبوں کے موثر نفاذ اور بروقت عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت ایسا ماڈل تیار کرنے کی خواہاں ہے جس کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانی اور مقامی سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں سرمایہ کاری کر سکیں اور ان کی سرمایہ کاری کو مکمل تحفظ حاصل ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی اور متعلقہ وزارتوں کی مشاورتی اور ریگولیٹری صلاحیت کو بڑھانا چاہتے ہیں تاکہ منصوبوں کی بہتر نگرانی اور رہنمائی کی جا سکے۔ اس سے بہتر منصوبہ بندی، شفافیت اور بروقت فیصلے ممکن ہوں گے۔

احد چیمہ نے اس بات پر زور دیا کہ ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور بین الوزارتی روابط کو بہتر کرنا منصوبوں کی منظوری اور بولی کے عمل میں تاخیر کو کم کرے گا جس سے مختلف شعبوں میں پی پی پی منصوبوں کے موثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

انہوں نے متحرک اور پائیدار پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ فریم ورک کو فروغ دینے کے عزم کااعادہ کرتے ہوئے کہاکہ اس سے ملک میں اقتصادی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔