حکومت غذائی تحفظ یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے،وفاقی وزیر راناتنویر حسین

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ زراعت، خوراک اور پلاسٹک ہماری ترقی کے اہم اجزاء میں شامل ہیں جو ماحولیاتی و مستقبل کے حوالہ سے بھی اہمیت کے حامل ہیں، ان میں جدت اور گرین گروتھ کی وسیع استعداد موجود ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں 28 ویں سسٹین ایبل کانفرنس کے پہلے روز …

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ زراعت، خوراک اور پلاسٹک ہماری ترقی کے اہم اجزاء میں شامل ہیں جو ماحولیاتی و مستقبل کے حوالہ سے بھی اہمیت کے حامل ہیں، ان میں جدت اور گرین گروتھ کی وسیع استعداد موجود ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں 28 ویں سسٹین ایبل کانفرنس کے پہلے روز اختتامی سیشن سے خطاب کے دوران کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں حکومت سرکلر اکانومی کے حوالہ سے پرعزم ہے تاکہ فضلہ کو کم سے کم کیا جاسکے۔

وسائل کے بار بار استعمال سے استفادہ اور کھپت کو بھی یقینی بنانا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ ماحول دوست پیکجنگ اور ویسٹ مینجمنٹ سسٹم وغیرہ کے حوالہ سے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ پلاسٹک کے ایک ہی بار استعمال پر پابندی ہے جو 2021ء سے نافذ العمل ہے۔ اس طرح کے اقدامات ہمارے عزم کی وسعت اور اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ماحولیاتی لچک، وسائل سے بھرپور استفادہ اور صنعتی ترقی کیلئے جامع حکمت کے تحت خاطرخواہ اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

زرعی شعبہ کی ترقی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم کیسے زرعی پیداوار حاصل کرتے ہیں اور اس کو پراسیس کرتے ہیں تاکہ غذا کو قابل استعمال بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ شعبہ میں پیداوار اور پراسیس کے دوران بہتر اقدامات سے ہم بعداز برداشت نقصان کو کم کر سکتے ہیں، ذیلی مصنوعات کے بہتر استعمال کو یقینی بنانے کے علاوہ پیکجنگ کے فضلہ کو بھی کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر کہاکہ زراعت کے شعبہ میں جدت اور ترقی کی منصوبہ بندی بنیاد ی اہمیت کی حامل ہے۔ایگری ویلیو چین میں جدت اور ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ استعمال سے بھرپور استفادہ کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم ماحول دوست اور موثر سمارٹ ٹیکنالوجی متعارف کرا رہے ہیں تاکہ بعداز برداشت پیداوار کو بہتر طریقے سے ہینڈل کیا جا سکے اور نقصان بھی کم سے کم ہو۔ اسی طرح پائیدار اور بائیو گریڈایبل پیکجنگ کے استعمال کو کم سے کم کرنے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، ہمارے منصوبہ کا مقصد زراعت سے منسلک صنعت کی ترقی اور بہترین سرکولر اقدامات ہیں تاکہ زراعت کے شعبہ کے فضلہ کو ری سائیکل کر کے فوائد حاصل کئے جا سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ زرعی شعبہ میں جدت اور ذمہ دارانہ پیداواری اقدامات سے متبادل ذرائع سے توانائی کے حصول میں اضافہ کیا جا سکتا ہے جس سے پلاسٹک کے استعمال پر انحصار اور فضلہ میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ پلاسٹک اور ایگری فوڈ سسٹم میں سرکولر اکانومی سے استفادہ کے ذریعے نہ صرف فضلہ کے انتظام کار میں بہتری لائی جا سکتی ہے بلکہ پائیدار ترقی اور استحکام کے نئے ماڈل بھی متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی نے کانفرنس میں ماہرین، پالیسی سازوں اور ترقیاتی شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا ہے جو ایک احسن اقدام ہے جس سے ایک دوسرے کے علم و تجربہ سے استفادہ اور اس اہم شعبہ میں شراکت داری کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہاکہ باہمی اشتراک کار سے ہم سرکولر سسٹمز کی تشکیل سے ایک بہتر اور زیادہ سرسبز اور لچک والا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہم سرسبز پاکستان کیلئے نجی شعبہ اور شراکتداروں کی مشاورت کو بنیادی ترجیح دیتے ہیں۔ رانا تنویر حسین نے کہاکہ حکومت نجی شعبہ کی شراکتدار ی سے پائیدار ترقی کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہاکہ زرعی شعبہ سے منسلک دیگر شراکتی سیکٹرز کو چاہئے کہ اس شعبہ کے مسائل کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہاکہ میں خود نجی شعبہ سے رابطہ میں ہوں تاکہ ان کی مشاورت سے پالیسی سازی اور حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔

رانا تنویر حسین نے کہاکہ غذائی تحفظ اور کوالٹی کے حوالہ سے ہماری وزارت کا متعلقہ شعبہ ڈی پی پی خودمختار ہے جس میں ماہرین شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سیفٹی سٹینڈرڈز میں اضافہ سے ہماری برآمدات کو فروغ حاصل ہوگا۔انہوں نے کہاکہ حکومت غذائی تحفظ یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے اوراس ضمن میں جامع اصلاحات متعارف کرا رہی ہے، مستقبل میں ہم سب ان اصلاحات کے اچھے نتائج دیکھیں گے۔

انہوں نے کہاکہ ہم نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ کریں گے بلکہ پائیدار زرعی شرح نمو کو یقینی بنائیں گے جو نہ صرف مقامی آبادی کی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوگی بلکہ ہم اضافی زرعی پیداوار کی برآمدات سے قیمتی زرمبادلہ کے حصول سے قومی معاشی ترقی میں بھی کردار ادا کریں گے۔