سپریم کورٹ نے سندھ کالج لیکچررز کی سنیارٹی کیس میں سندھ سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا
حکومت ملازمین کے باہمی تنازعات میں حریف نہیں بن سکتی،سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔24جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے سندھ کے کالج لیکچررز کی سنیارٹی سے متعلق مقدمے میں سندھ سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے حکومت سندھ کی تمام درخواستیں مسترد کر دیں۔
عدالت نے آبزرو کیا کہ سنیارٹی کے معاملات میں اصل متاثرہ فریق متعلقہ ملازمین ہوتے ہیں، حکومت نہیں اور اگر کوئی ملازم ٹریبونل کے فیصلے کو چیلنج نہ کرے تو حکومت کو ایک غیر جانبدار آجر کے طور پر فیصلے پر عملدرآمد کرنا چاہیے۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سندھ حکومت کی جانب سے دائر 18 سول پٹیشنز پر فیصلہ سنایا۔ تفصیلی فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا۔عدالت کے مطابق سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) نے کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں مختلف مضامین کے لیکچررز (بی ایس 17) کی بھرتیوں کے لیے مختلف اوقات میں سفارشات ارسال کی تھیں۔ بعد ازاں تیار کی گئی مشترکہ سنیارٹی فہرست میں بعض لیکچررز نے اعتراض اٹھایا کہ ان کی تقرری کے انتخاب کی تاریخ کو درست طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا۔متاثرہ لیکچررز نے محکمانہ اپیلوں کے بعد سندھ سروس ٹریبونل سے رجوع کیا جس نے اکثریتی فیصلے کے ذریعے ان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے سنیارٹی فہرست میں اصلاحات کا حکم دیا تھا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سندھ سول سرونٹس (پروبیشن، کنفرمیشن اینڈ سنیارٹی) رولز 1975 کے رول 11(a) کے تحت پہلے انتخاب میں منتخب ہونے والا ملازم بعد کے انتخاب میں منتخب ہونے والے ملازم سے سینئر شمار ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ مشترکہ سنیارٹی فہرست بناتے وقت بھی اس بنیادی اصول کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ انگریزی مضمون کے لیکچررز کی سنیارٹی پہلے ہی اسی اصول کے تحت درست کی گئی تھی کیونکہ ان کی بھرتی الگ اشتہار اور پہلے مرحلے میں ہوئی تھی، لہٰذا دیگر مضامین کے لیکچررز کے ساتھ مختلف سلوک کرنا قواعد کے منافی تھا۔سپریم کورٹ نے اپنے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ سنیارٹی کے تعین میں انتخاب اور سفارشات کی تاریخوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور سروس ٹریبونل نے قواعد کے مطابق درست فیصلہ دیا ہے۔عدالت نے فیصلے میں ایک اہم قانونی نکتہ بھی اٹھایا اور کہا کہ سنیارٹی کے تنازع میں اصل متاثرہ فریق متعلقہ ملازمین ہوتے ہیں، حکومت نہیں۔ اگر کوئی ملازم ٹریبونل کے فیصلے کو چیلنج نہیں کرتا تو حکومت کو ایک غیر جانبدار آجرکے طور پر اس فیصلے پر عملدرآمد کرنا چاہیے، نہ کہ ایک مخالف فریق کی حیثیت سے مقدمہ بازی کو طول دینا چاہیے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ حکومت سندھ کسی قانونی نقصان یا متاثرہ حق کی نشاندہی نہیں کر سکی، اس لیے "No Aggrieved Person, No Appeal” کا اصول بھی اس معاملے پر لاگو ہوتا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ سندھ سروس ٹریبونل کے فیصلے میں کوئی قانونی خامی، بے ضابطگی یا اختیارات سے تجاوز ثابت نہیں ہوا، لہٰذا حکومت سندھ کی تمام سول پٹیشنز مسترد کی جاتی ہیں۔








