حکومت ملک میں موجودہ سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں موجودہ سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے، اپوزیشن جماعتیں غیرآئینی طریقے سے حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، ملک میں بڑے عرصے بعد جمہوریت کی روایت چلی ہے، اگر آج غیرآئینی طریقے سے حکومت کو گھر بھیجنے کی روش پڑ گئی تو …

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں موجودہ سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے، اپوزیشن جماعتیں غیرآئینی طریقے سے حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، ملک میں بڑے عرصے بعد جمہوریت کی روایت چلی ہے، اگر آج غیرآئینی طریقے سے حکومت کو گھر بھیجنے کی روش پڑ گئی تو آئندہ کوئی بھی حکومت کام نہیں کر پائے گی، حکومت انتخابی اصلاحات سمیت دیگر قومی مفاد کے ایشوز پر اپوزیشن کے ساتھ بات کرنے کیلئے تیار ہے، اپوزیشن جماعتیں اگر یہ سمجھتی ہیں کہ وہ اسطرح کے ہتھکنڈے استعمال کر کے حکومت پر دبائوڈال کر احتساب کے عمل کو روک لیں گی تو ایسا نہیں ہو گا، مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال میں بھارت کے ساتھ مذاکرات بے معنی ہیں، اس ماحول میں بھارت کے ساتھ مذاکرات کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا، فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی تشہیر سنجیدہ معاملہ ہے، حکومت نے بھرپور انداز سے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور او آئی سی کو معاملے پر اکٹھا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، نومبر میں کوئی ایسا سیاسی بھونچال نظر نہیں آ رہا جس سے حکومت کو کوئی نقصان ہو۔ منگل کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کی اپنے داخلی معاملات، مقبوضہ کشمیر اور معاشی صورتحال سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کے خلاف سازشیں کرتا رہتا ہے، بھارت ہمیشہ پاکستان میں عدم استحکام سے ایڈونٹیج لینے کی کوشش کرتا رہتا ہے، ملک میں دھماکوں کے پیچھے امن عمل میں رختہ اندوزی پیدا کرنے والی قوتیں اور بھارت ہو سکتا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی حکومت نے کورونا بحران کو مس ہینڈل کیا ہے جس کی وجہ سے اسے شدید معاشی دھچکا لگا ہے اور عوام کی طرف سے اسے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی ڈبل گیم کوئی نہیں نہیں ہے یہ ہمیشہ چالیں چلتا آیا ہے، بھارت نے گزشتہ سال 5 اگست کو یکطرفہ غیرقانونی اقدامات اٹھائے، سلامتی کونسل کی قراردادوں کو ہوا میں اڑایا، مقبوضہ وادی میں ظلم و بربریت برپا ہے، کشمیریوں کو ابھی تک کوئی ریلیف نہیں ملی، اس ماحول میں بھارت سے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں دکھائی دیتا اور مذاکرات بے معنی ہوں گے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت گلگت بلتستان کے حوالے سے کوئی ایسا قدم اٹھانے کا ارادہ نہیں رکھتی جس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے، سلامتی کونسل کی قراردادوں، سرتاج عزیز کی سفارشات اور بلاول بھٹو کے بیانات کو سامنے رکھ کر تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور قومی اتفاق رائے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان سی پیک کیلئے بہت اہم ہے اور بعض لوگ بدگمانیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہاں امن و استحکام نہ ہو، وہ قومیت کو ہوا دے رہے ہیں تاہم ہمیں گلگت بلتستان کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق ایک متوازن سوچ کے تحت آگے بڑھنا ہو گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت داخلی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے تیار ہے، ہمیں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، انتخابات جمہوری عمل ہے، اپوزیشن جماعتوں کو تجویز دی تھی کہ آئیں اور انتخابی اصلاحات کریں تاکہ ایسا نظام استوار کریں جس پر سب کو اعتماد ہو، اس کے علاوہ قومی نوعیت کے ایشوز پر بھی اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اور رہنماﺅں کے خلاف کوئی ایک کیس ایسا نہیں جو موجودہ حکومت نے بنایا ہو، انہوں نے اپنے ادوار میں ایک دوسرے کے خلاف کیسز بنائے، اگر اپوزیشن یہ سمجھتی ہے کہ وہ حکومت پر دباﺅ ڈال کر احتساب کے عمل کو روک لے گی تو ایسا نہیں ہو گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ملک میں بڑے عرصے بعد جمہوریت کی روایت چلی ہے، پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے اپنے ادوار مکمل کئے، اگر غیرآئینی طریقے سے منتخب حکومت کو گھر بھیجنے کی روش پڑ گئی تو آئندہ کوئی بھی حکومت کام نہیں کر سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں ہوش کے ناخن لیں اور دیکھیں کہ کیا یہ ملک کو نقصان پہنچانے والی قوتوں کے بیانیے کا حصہ تو نہیں بن رہے۔ شاہ محمود نے کہا کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی تشہیر سنجیدہ اور حساس معاملہ ہے، حکومت نے اس پر بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی ہے، ہم او آئی سی کو معاملے پر اکٹھا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور فرانس سے اپنے سفیر کو واپس بلانے پر غوروحوض کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاست میں ہر روز اور ہر ہفتہ اہم ہوتا ہے، نومبر میں ایسا کوئی سیاسی بھونچال نظر نہیں آ رہا جس سے حکومت کو کوئی نقصان ہو۔