وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں کیش لیس معیشت کے فروغ، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے دائرہ کار میں توسیع اور مالیاتی خدمات تک عام شہریوں کی رسائی بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے، محفوظ اور موثر ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی تشکیل میں سائبر سکیورٹی اور مالی فراڈ کی روک تھام کو مرکزی اہمیت حاصل ہے
حکومت ملک میں کیش لیس معیشت کے فروغ، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے دائرہ کار میں توسیع اور مالیاتی خدمات تک عام شہریوں کی رسائی بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے، وزیر خزانہ محمداورنگزیب کی ماسٹر کارڈ کے وفد سے ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں کیش لیس معیشت کے فروغ، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے دائرہ کار میں توسیع اور مالیاتی خدمات تک عام شہریوں کی رسائی بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے، محفوظ اور موثر ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی تشکیل میں سائبر سکیورٹی اور مالی فراڈ کی روک تھام کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔انہوں نے یہ بات بدھ کویہاں ماسٹر کارڈ کے وفد سے ملاقات میں کہی،وفدکی قیادت مارک ایلیٹ، ڈویژن پریذیڈنٹ ایسٹ عربیہ کر رہے تھے۔ ملاقات میں ڈیجیٹل ادائیگیوں، مالیاتی شمولیت، سائبر سکیورٹی اور پاکستان میں کیش لیس معیشت کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے پاکستان کے مالیاتی شعبے کے ساتھ ماسٹر کارڈ کی دیرینہ وابستگی اور ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل میں تعاون کی دلچسپی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ، مالیاتی خدمات تک رسائی میں بہتری اور ملکی معیشت میں شفافیت، کارکردگی اور سہولت بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کے کیش لیس معیشت کے اقدام کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات زراعت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور معیشت کے دیگر محروم طبقات کی معاونت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں ،مالیاتی شمولیت کے وسیع تر اہداف کے حصول کے لیے ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کا دائرہ کار بڑھانا ضروری ہے۔
ملاقات میں سرحد پار ترسیلات زر کے نظام میں بہتری، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور سائبر سکیورٹی کے فروغ کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے زور دیا کہ محفوظ اور مستحکم ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی ترقی کے لیے سائبر سکیورٹی اور مالی فراڈ کی روک تھام کو بنیادی ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس موقع پر مارک ایلیٹ نے پاکستان کے لیے ماسٹر کارڈ کے طویل المدتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی اپنی عالمی مہارت اور تکنیکی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل میں معاونت فراہم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی قبولیت، مالیاتی شمولیت، ترسیلات زر اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں مزید تعاون کے امکانات کو اجاگر کیا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے پاکستان میں ماسٹر کارڈ کی مسلسل دلچسپی اور سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جدت کے فروغ اور سرکاری و نجی شعبے کے درمیان شراکت داری مضبوط بنانے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔ملاقات میں دونوں جانب سے قریبی رابطے برقرار رکھنے اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے عملی تعاون کے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ماسٹر کارڈ کے وفد میں پاکستان اور افغانستان کے کنٹری منیجر ارسلان خان اور ڈائریکٹر پبلک سیکٹر جبراں جمشید بھی شامل تھے۔







