پشاور ۔ 28 ستمبر (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایک وقت تھا کہ سربراہان مملکت بھی لندن میں نہیں بلکہ پاکستان میں اپنا علاج کراتے تھے،70ءکی دہائی اور نیشنلائزیشن کے بعد تعلیم اور صحت کے اداروں کا معیار گرنا شروع ہو گیا، حکومت میرٹ کا نظام نافذ کرے گی، امیر اور غریب کے ساتھ یکساں برتاﺅ ہونا چاہیے، لیڈی ریڈنگ ہستپال کو ماڈل بنایا …
حکومت میرٹ کا نظام نافذ کرے گی، امیر و غریب کے ساتھ یکساں برتاﺅ ہونا چاہیے، لیڈی ریڈنگ ہستپال کو ماڈل بنایا جائے گا، وزیر اعظم عمران خان کا لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں پشاور میں ڈاکٹروں اور طبی عملے سے خطاب

مزید خبریں
پشاور ۔ 28 ستمبر (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایک وقت تھا کہ سربراہان مملکت بھی لندن میں نہیں بلکہ پاکستان میں اپنا علاج کراتے تھے،70ءکی دہائی اور نیشنلائزیشن کے بعد تعلیم اور صحت کے اداروں کا معیار گرنا شروع ہو گیا، حکومت میرٹ کا نظام نافذ کرے گی، امیر اور غریب کے ساتھ یکساں برتاﺅ ہونا چاہیے، لیڈی ریڈنگ ہستپال کو ماڈل بنایا جائے گا، ایم ٹی آئی نظام کا مقصد کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور کام نہ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں سرجیکل اور الائیڈ سروسز بلاک کے افتتاح کے موقع پر ڈاکٹروں اور طبی عملے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ نئے بلاک کی تعمیر پر انتظامیہ کو مبارکباد دیتے ہیں، یہ مرحلہ بڑی مشکلات سے گزر کر طے ہوا ہے، یہ ہسپتال باقی ہسپتالوں کے لیے ایک مثال بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے ہسپتال بہترین ہیں ،اس وقت پرائیویٹ ہسپتالوں کا کوئی تصور نہیں تھا اور تب سربراہان مملکت بھی لندن کے بجائے پاکستان میں اپنا علاج کراتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ 70 کی دہائی اور نشینلائزیشن کے بعد تعلیم اور صحت کے شعبے تباہ ہوئے اور ان کا معیار گرگیا، جس ادارے میں سزا و جزا کا نظام نہ ہو وہ تباہ ہو جاتا ہے، جزا اور سزا کا نظام محنت کی ترغیب لاتا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ چین نے میرٹ کی بنیاد پر ساری دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا کیونکہ وہاں میرٹ کا نظام ہے اور پروفیشنلزم کا مظاہرہ کرنے والے ترقی پاتے ہیں، اس کے برعکس ہمارا سینئر اور جونیئر کا نظام ہے اور سب کو ایک جیسی تنخواہیں ملتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایک وقت تھا کہ پاکستان کی ڈگریاں دنیا بھر میں تسلیم کی جاتی تھیں اور ہمارے ڈاکٹروں کی بہت عزت تھی لیکن اب ڈگریوںکا معیار پہلے جیسا نہیں رہا ۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں اصلاحات کے لیے ایم ٹی آئی کا نظام متعارف کرانے کامقصد کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جس معاشرے میں میرٹ نہ ہو اور ظلم و ناانصافی ہو وہ ترقی نہیں کر سکتا۔وزیر اعظم نے کہا کہ چین کے نظام سے ہمیں سکھنا چاہیے اور اپنے اداروں میں بھی میرٹ کا نظام لانا چاہیے، ہمیں امیر اور غریب کے ساتھ یکساں برتاﺅ کرنا ہو گا، بدقسمتی سے جو پیسے نہیں دیتا اس سے اور طرح کا رویہ برتا جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم نے شوکت خانم ہسپتال میں یہ تفریق ختم کی اور ایسانظام بنایا کہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کو بھی پتہ نہیں ہوتا تھا کہ کون پیسے دے کر اور کون بغیر پیسوں کے علاج کروا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوکت خانم ہسپتال ایک منفرد مثال ہے، ہر سال 12، 13 ارب خسارے والا ہسپتال کامیابی سے چلنا ایک معجزہ ہے، یہ اس لیے ممکن ہوا کہ جب نیت صحیح ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی مدد بھی شامل حال ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کو صوبے کے باقی ہسپتالوں کے لیے ایک ماڈل بنایا جائے، یہ بہترین ہسپتال ہے، اس کی صفائی ستھرائی اورنظام کو مستقل بنیادوں پر بہترین رکھنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ صحت کارڈ کے اجرا کے بعد پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں میں مقابلہ ہو گا کیونکہ مریض وہاں جائے جہاں اسے بہترین علاج میسر آئے گا، پہلے غریب آدمی کے پاس سرکاری ہسپتال میں جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا تھا لیکن صحت کارڈ کے اجرا کے بعد وہ کسی پرائیویٹ ہسپتال سے بھی اپنا علاج کروا سکے گا۔ وزیرا عظم نے کہا کہ انہیں ہسپتال کا معیار دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اسے برقرار رکھنے کے لیے تمام ممکن اقدامات کیے جائیں۔








