پنجاب اسمبلی اجلاس، 16 سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور

پنجاب اسمبلی اجلاس، 16 سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور

لاہور۔1ستمبر (اے پی پی):پنجاب اسمبلی نے 16 سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ قرارداد چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب، ایم پی اے سارہ احمد نے ایوان میں پیش کی۔قرارداد میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کے لیے موثر قانون سازی، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عمر کی موثر تصدیق اور کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے مربوط ضابطہ جاتی نظام وضع کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

قرارداد کے متن میں بچوں کو سائبر ہراسانی، آن لائن جنسی استحصال، نامناسب اور نقصان دہ مواد سمیت سوشل میڈیا کے دیگر مضر اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے موثر اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔اس موقع پر چیئرپرسن سارہ احمد نے کہا کہ ہر بچے کو محفوظ بچپن اور محفوظ ڈیجیٹل مستقبل فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ بنانا ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کم عمر بچوں کے تحفظ کے لیے موثر عمر کی تصدیق، نگرانی اور نقصان دہ مواد کی بروقت روک تھام ضروری ہے۔

پاکستان میں بچوں کے محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کے لیے موثر قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔سارہ احمد نے کہا کہ دنیا کے متعدد ممالک کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے عمر کی پابندیاں اور حفاظتی اقدامات متعارف کرا چکے ہیں، لہذا پاکستان میں بھی بچوں کے بہترین مفاد کو مدِنظر رکھتے ہوئے موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ محفوظ ڈیجیٹل ماحول ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور حکومت پنجاب بچوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گی۔

مزید خبریں