حکومت نئے وفاقی بجٹ میں نئے ٹیکس نہیں لگائے گی، کئی اشیا پر ڈیوٹیز کوکم کیا جارہا ہے، معیشت کو فروغ دینے اور روزگارکے مواقع پیداکرنے والے شعبوں کومراعات دی جائیں گی، ملازمتیں پیدا کرنے والے شعبوں کو پیکیجز دیں گے، کورونا وائرس کی وباء کے تناظرمیں دی گئی سبسڈیز کو جاری رکھنے، تیل کی قیمتوں میں کمی کو ایک سطح پر برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے مشیربرائے خزانہ ومحصولات عبدالحفیظ شیخ

اسلام آباد ۔ 19 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ حکومت نئے وفاقی بجٹ میں نئے ٹیکس نہیں لگائے گی، کئی اشیا پر ڈیوٹیز کو بھی کم کیا جارہا ہے، معیشت کو فروغ دینے اورروزگارکے مواقع پیداکرنے والے شعبوں کومراعات دی جائیں گی۔ انہوں نے یہ بات نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان …

اسلام آباد ۔ 19 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ حکومت نئے وفاقی بجٹ میں نئے ٹیکس نہیں لگائے گی، کئی اشیا پر ڈیوٹیز کو بھی کم کیا جارہا ہے، معیشت کو فروغ دینے اورروزگارکے مواقع پیداکرنے والے شعبوں کومراعات دی جائیں گی۔ انہوں نے یہ بات نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی 72 سالہ تاریخ میں کبھی برآمدات نہیں بڑھ سکیں ، موجودہ حکومت نے برآمدات کے فروغ کیلئے کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے آغازکیا تو اسے20 ارب ڈالر کے بجٹ خسارہ کا سامنا تھا، حکومت نے اصلاحات کے پروگرام کا آغازکیا اوراب بجٹ کے خسارے میں نمایاں کمی لائی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے زرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ کیلئے اقدامات بھی کئے ہیں اوران کوششوں کے نتیجہ میں سٹیٹ بینک کے ذخائر کو 12 ارب ڈالر تک لے جایا گیا۔مشیرخزانہ نے کوروناوائرس کی وباء کے تناظرمیں مستقبل کو مشکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں زیادہ محنت کرنا ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ آنے والے بجٹ میں کافی اشیاء پر ڈیوٹیز کو کم کیا جارہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ برآمدی شعبہ کو فروغ دینے کیلئے جامع اقدامات کئے گئے، حکومت ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کے نظام میں نمایاں بہتری لائی ہے، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ برآمدکنندگان اوردیگرشعبوں کو تیزرفتاری کے ساتھ ری فنڈز کی ادائیگی کی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا بنیادی مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے ، حکومت کوشش کررہی ہے کہ امدادی پیکج کے زریعہ لوگوں کے ہاتھ میں کیش پہنچایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ معاشرے کے کمزوراورغریب طبقات کو احساس پروگرام کے تحت فی کس 12 ہزار روپے کی امداد دی جارہی ہے، اس پروگرام پرکامیابی سے عمل درآمد جاری ہے، احساس پروگرام کے تحت 90 ارب تک روپے ضرورتمندوں کو پہنچائے جاچکے ہیں۔ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ حکومت کو ورثے میں بڑے قرض ملے جن کی ادائیگی کیئے ہمیں وسائل کو موبلائز کرنا پڑا۔بیرون ملک سے پاکستانیوں کی ترسیلات زر سے متعلق سوال پرانہوں نے کہاکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں جاری مالی سال کے دوران ترسیلات زر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے حکومت کے تخمینے کے مطابق ان ترسیلات میں 6 فیصد کمی آئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت بجٹ خسارے کو 9 فیصد کم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، اس میں ہم اپنے اخراجات کو بھی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ ہم آنے والے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لائیں گے، معیشت کو بڑھانے کے لیے ملازمتیں پیدا کرنے والے شعبوں کو پیکیجز دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وباء کے تناظرمیں جوسبسڈیز دی ہیں اس کو بھی جاری رکھنے اور تیل کی قیمتوں میں کمی کو ایک سطح پر برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ تیل کی قیمتوں کے بارے میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کب تک برقرار رہیں گی، دنیاکی معیشت سنبھلے گی تو تیل کی قیمتوں میں بھی تبدیلی آسکتی ہے۔