اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود سیلاب سے متاثرہ افراد اور علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کی کارروائیوں کے لئے حکومت نے جو اقدامات کئے اس کی دنیا نے تعریف کی ہے، وزارت مواصلات اور وزارت بجلی نے ملک میں رابطوں اور شاہراہوں کی بحالی کیلئے کلیدی کردار ادا کیا، عمران خان ایسا ظالم …
حکومت نےمحدود وسائل کے باوجود سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لئے بہتر اقدامات کئے ،احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود سیلاب سے متاثرہ افراد اور علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کی کارروائیوں کے لئے حکومت نے جو اقدامات کئے اس کی دنیا نے تعریف کی ہے، وزارت مواصلات اور وزارت بجلی نے ملک میں رابطوں اور شاہراہوں کی بحالی کیلئے کلیدی کردار ادا کیا، عمران خان ایسا ظالم شخص ہے کہ اس کو سیلاب زدگان کا دکھ نہیں تھا یہ جلسے کرتا رہا مگر حکومت اور اس کی ساری مشینری کی تمام تر توجہ اپنے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی بحالی پر تھی، پی ٹی آئی کی حکومت ملک کو دیوالیہ کرنے کے کنارے پر لگا کر گئی تھی اب معیشت مستحکم ہو رہی ہے، مہنگائی جلد قابو میں آجائے گی، ملک دشمنی پر مبنی عمران خان کی سیاست کو ختم کریں گے۔
پیر کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے سیلاب کی صورتحال پر بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ معزز اراکین نے تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کیا اور تجاویز دیں، بلاشبہ حالیہ سیلاب جدید دور کی سب سے بڑی ماحولیاتی تباہی تھی، دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافے کا عمل شروع ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ ترقی کا عمل ہے۔ ماحول کو نقصان پہنچانے والی گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن پاکستان ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والا دنیا کا آٹھواں ملک ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بار جو تباہی ہوئی ہے اس کی نوعیت مختلف ہے، ماضی میں ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں اور گلیشیئرز کے پانی کی وجہ سے دریائوں میں سیلاب آتے تھے اس مرتبہ جو سیلاب آیا ہے اس کی وجہ غیر معمولی بارشیں ہیں، بالائی علاقوں میں کم بارشوں کا اندازہ اس بات سے بھی ہو رہا ہے کہ منگلا ڈیم جو جولائی کے آخر تک 70 سے 80 فیصد تک بھر جاتا ہے، اکتوبر کے آخر تک بھی 50 فیصد تک بھرا ہے، اس بار جنوبی پنجاب، جنوبی خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ میں غیر معمولی بارشیں ہوئی ہیں، بعض علاقوں میں 700 سے 800 فیصد تک زائد بارشیں ہوئیں جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔
جو تباہی ہوئی ہے اس کا مقابلہ دنیا کا ترقی یافتہ ملک بھی نہیں کر سکتا، یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان کا خصوصی دورہ کیا اور اس دورہ کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مدد خیرات کے طور پر نہیں کرنی چاہیے بلکہ یہ ترقی یافتہ ممالک کا فرض ہے کہ وہ پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد اور علاقوں کی مدد کو آگے آئیں، کیونکہ جو ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اس میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سیلاب کے فوری بعد وفاقی حکومت نے این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم ایز کے ذریعے کام کا آغاز کیا، اس کارروائی میں صوبائی حکومتوں، مسلح افواج جس میں آرمی، فضائیہ اور پاکستان نیوی شامل ہیں، نے مربوط انداز میں کام کیا۔ مسلح افواج کے تقریباً 20 ہزار سے زائد افسروں اور جوانوں نے ریلیف اور ریسکیو کے کاموں میں حصہ لیا۔ نیوی کی کشتیوں نے متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچانے اور امدادی اشیاء کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا، اس طرح ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرین تک سامان پہنچایا گیا۔
ملک بھر میں پاک فوج کے جوانوں اور افسروں نے ریلیف کے کاموں میں بھرپور انداز میں حصہ لیا اور ریلیف کیمپ بھی قائم کئے گئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود سیلاب سے متاثرہ افراد اور علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کی کارروائیوں کے لئے حکومت نے جو اقدامات کئے اس کی دنیا نے تعریف کی ہے تاہم نقصان کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود تمام متاثرین کو کور نہیں کیا جاسکا مگر اس میں بھی غیر سرکاری تنظیموں، بین الاقوامی شراکت داروں، مخیر حضرات، سول سوسائٹی اور اوورسیز پاکستانیوں نے بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے نیشنل فلڈ کوآرڈینشن سنٹر قائم کیا جس کی سربراہی وہ خود کر رہے ہیں، اس سنٹر کے قیام کا بنیادی مقصد ریلیف کے کاموں کو مربوط بنانا ہے، میں اس سنٹر میں نائب سربراہ ہوں، روزانہ صبح دس بجے ہماری میٹنگ ہوتی ہے جس میں ریلیف کے کاموں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے بعد وزارت مواصلات ، وزارت پاور اور دیگر اداروں نے موثر انداز میں کام کیا جس سے سیلاب سے ٹوٹے ہوئے رابطوں کو بحال کرنے میں مدد ملی، 15 دنوں کے اندر این ایچ اے نے قومی شہراہوں پر ٹریفک کو بحال کیا جس کی وجہ سے ہم ایسے مسائل کا سامنا کرنے سے بچ گئے جن کے پیدا ہونے کے خدشات موجود تھے،
اس طرح ریلویز نے دن رات محنت کی، ایم ایل ون کے کئی حصے پانی میں ڈوب گئے تھے، ریلویز نے پہلے مرحلے میں کارگو اور اس کے بعد مسافر ٹرینوں کا نظام بحال کیا، اسی طرح وزارت بجلی نے ان گرڈ سٹیشنوں کو بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا جن کو بارشوں سے نقصان پہنچا تھا۔ محکمہ سوئی گیس نے گیس پائپ لائنز جبکہ محکمہ مواصلات نے ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز کی بحالی کا کام احسن انداز میں کیا۔ ان تمام اداروں کی کوششوں سے رابطوں کو بحال کرنے میں مدد ملی۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے سیلاب متاثرین کے لئے 70 ارب روپے کی منظوری دی جن میں سے 80 فیصد سے زائد مستحقین میں تقسیم ہو چکے ہیں، لاکھوں گھرانوں کو 25 ہزار روپے نقد امداد فراہم کی گئی، متاثرہ علاقوں میں زراعت کی بحالی کے لئے گندم کی خریداری کے ضمن میں 9 ارب روپے کے پیکج کی منظوری دی گئی ہے، یہ بیج این ڈی ایم اے خریدے گی، یہ پروگرام صوبوں کے ساتھ مل کر آگے بڑھایا جائے گا۔ سندھ اور بلوچستان نے وفاقی حکومت کی پیشکش قبول کرلی جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں نے گندم کے بیج لینے سے انکار کیا ہے۔
ہماری خواہش تھی کہ دونوں صوبوں کے غریب کسانوں کو گندم کے بیج ملتے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس طرح سیلاب کے بعد وبائی بیماریاں پھیلنے کا بھی خدشہ تھا، اس پر بھی صوبوں کے ساتھ رابطہ کاری کی گئی جبکہ بین الاقوامی شراکت داروں سے بھی رابطہ کیا گیا۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ وبائی امراض کی روک تھام کے لئے ادویات اور مچھر دانیاں فراہم کی گئیں، ڈینگی، ملیریا اور خسارہ پھیلنے سے روکنے میں کامیاب ہوئے، مقامی ڈاکٹروں اور غیر ملکی ٹیموں نے اس سلسلے میں کافی حد تک مدد کی۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے پورے ملک میں 284 عطیاتی مراکز قائم کئے، مخیر لوگوں نے اس میں دل کھول کر امداد کی۔ انہوں نے کہا کہ موسم ٹھنڈا ہوگیا ہے، مخیر لوگوں کو ٹھنڈا نہیں ہونا چاہیے، سیلاب زدگان کے لئے کمبل اور لحاف کے عطیات کی اب بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2010ء میں جب سیلاب آیا تو ہماری حکومت نے 2013ء میں نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان پر کام کیا اور 2017ء میں ڈچ کنسلٹنٹس نے یہ پلان بنایا کہ اپنے دریائوں کی گزرگاہوں کو بہتر بنا کر سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچا جاسکتا ہے۔ 2010ء میں 2 ہزار انسانی جانیں ضائع ہوئیں مگر اس شدید سیلاب کے وقت کم انسانی جانیں ضائع ہوئیں کیونکہ این ڈی ایم اے نے بروقت متاثرہ لوگوں کی رہنمائی اور مدد کی۔ نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان پر 340 ار روپے خرچ ہوئے تھے مگر صوبوں نے اس میں اپنا حصہ ادا نہیں کیا اور گزشتہ پانچ سالوں کے دوران اس منصوبہ کو نظر انداز کیا گیا۔
انہوں نیک ہا کہ ہم نیشنل فلڈ پروٹیکشن پروگرام پر عمل کرنے جارہے ہیں۔ ہم نے عالمی برادری کو تعمیر نو کے کاموں میں موبلائز کیا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور فرانس نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لئے ڈونرز کانفرنس کی میزبانی کرنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مہینے ڈونرز کانفرنس منعقد ہوگی تاکہ سیلاب سے ہونے والی تباہی سے بحالی کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ الیکشن یکطرفہ تھا، ایک جماعت کے لیڈر کے اندر انسانی دل نہیں تھا، ہم نے اپنی اولین ترجیح کو الیکشن نہیں بنایا تھا، وزیراعظم سمیت پوری حکومت نے سیاست کی بجائے سیلاب زدگان کی بحالی کو اپنی ترجیح بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شخص ایسا ظالم ہے کہ اس کو سیلاب زدگان کا دکھ نہیں تھا یہ جلسے کرتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر خان صاحب انتخابی مہم پر لگایا جانے والا پیسہ سیلاب زدگان پر لگاتے تو دو سے چار اضلاع مکمل بحال ہوسکتے تھے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ سیلاب زدگان کی بحالی کے معاملے پر سول سوسائٹی اور منتخب نمائندوں کی تجاویز لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جلد ہی وزیراعظم کسان کنونشن میں ایک پیکج کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2018ء میں جب ہم نے حکومت چھوڑی تھی ہم گندم چینیا ور کپاس میں خود کفیل تھے مگر 2022ء میں ہم یہ تینوں اجناس امپورٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسی ترقی تھی کہ ایک ہزار ارب کا ترقیاتی بجٹ سکڑ کر 550 ارب روپے رہ گیا ہے۔ پاکستان کا خزانہ خالی ہو چکا تھا۔ پی ٹی آئی کی حکومت دیوالیہ کرنے کے کنارے پر لگا کر گئی تھی، اب ہم نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے۔ ملک کو مہنگائی کا سامنا اس لئے ہے کہ خان صاحب نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم کی۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے آئی ایم ایف سے یہ معاہدہ کرلیا تھا کہ پٹرول اور بجلی پر سبسڈی ختم کریں گے ہم اگر آئی ایم ایف معاہدہ کو چھوڑ دیتے تو ملک دیوالیہ ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جوں جوں معیشت کو مستحکم کرنے کی طرف جارہے ہیں مہنگائی قابو میں آجائے گی۔ پاکستان کے عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ آئی ایم ایف معاہدے کی ملک سے باہر بھارت نے مخالفت کی اور ملک کے اندر عمران خان نے کی۔
اس طرح یہ دونوں ایک پیج پر تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔ ایٹمی پروگرام کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی اور نواز شریف نے اس کی تکمیل کی، پاک فوج کے جوان ملکی دفاع کے لئے اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر قربانیاں دے رہے ہیں، یہ ملک غلام کیسے ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کو نازی جرمنی اور خود ہٹلر بننا چاہتا ہے، ہم عمران خان کی سیاست کو ختم کریں گے۔ قبل ازیں سیلاب کی صورتحال پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے محمد افضل خان ڈھانڈلہ نے کہا کہ سیلاب سے زراعت سے منسلک طبقہ زیادہ متاثر ہوا ہے، کسانوں کے گھر، فصلیں اور مال مویشی ختم ہوگئے، لوگ کھلے آسمان تلے موسم کی سختیاں جھیل رہے ہیں، زراعت پاکستان میں سب سے نظر انداز شعبہ ہے۔
بھارت میں ڈی اے پی کی قیمت 4 ہزار اور پاکستان میں 8 سے لے کر 10 ہزار جبکہ یوریا بھارت میں 800 سے ایک ہزار جبکہ پاکستان میں 3 ہزار سے 3500 روپے ہے، اسی طرح بجلی کی قیمتیں بھی زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی مداخل کی قیمتیں بڑھی ہیں جبکہ کسانوں کی آمدنی اسی تناسب سے نہیں بڑھی، ملک اور معیشت کی ترقی کے لئے زراعت کو معاونت فراہم کرنا ضروری ہے۔ زرعی ترقیاتی بنک کا شرح سود 22 فیصد کے قریب ہے جو بہت زیادہ ہے، کاشتکاروں اور زمینداروں کے قرضوں پر سود ختم کیا جائے۔
ڈاکٹر شہناز بلوچ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ اور ملحقہ علاقوں میں سردیاں قبل از وقت شروع ہوئی ہیں اور گیس بھی نہیں ہے۔ بلوچستان کے 25 ہزار لوگ کان کنی سے وابستہ ہیں، سیلاب سے کانوں میں پانی چلا گیا ہے، اس شعبہ کو ریلیف سرگرمیوں میں شامل کرنا چاہیے۔ چوہدری محمود بشیر ورک نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے ملک بھر میں نقصان ہوا ہے، سیلاب سے دیہات سے شہروں کی طرف نقل مکانی کا نیا سلسلہ شروع ہوا ہے، ریلیف اور امداد کے کاموں میں غریب لوگوں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ریلیف کی سرگرمیوں کو مربوط بنانے کے لئے کام ہونا چاہیے۔ پاکستان کو بچانے کے لئے پانی کا انتظام وقت کی ضرورت ہے، اس مقصد کے لئے ڈیموں کی تعمیر پر توجہ مرکوز کرنا چاہیے۔








