اسلام آباد ۔ 2 فروری (اے پی پی) وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ حکومت نے جولائی2018ء سے ستمبر2019ء تک کے دورانیہ میں بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے 4.11 ٹریلین روپے قرضہ حاصل کیا ہے ، میڈیا کے بعض حصوں میں اس عرصہ کے دوران 11.61 ٹریلین روپے قرض لیے جانے کی خبریں وضاحت طلب ہیں۔ اتوارکو جاری کیے گئے سرکاری اعلامیے میں وزارت خزانہ نے کہاہے کہ مالی …
حکومت نے جولائی2018ء سے ستمبر2019ء کے دوران بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے 4.11 ٹریلین روپے قرضہ حاصل کیا میڈیا کے بعض حصوں میں اس عرصہ کے دوران 11.61 ٹریلین روپے قرضہ لیے جانے کی خبریں وضاحت طلب ہیں،وزارت خزانہ
اسلام آباد ۔ 2 فروری (اے پی پی) وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ حکومت نے جولائی2018ء سے ستمبر2019ء تک کے دورانیہ میں بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے 4.11 ٹریلین روپے قرضہ حاصل کیا ہے ، میڈیا کے بعض حصوں میں اس عرصہ کے دوران 11.61 ٹریلین روپے قرض لیے جانے کی خبریں وضاحت طلب ہیں۔ اتوارکو جاری کیے گئے سرکاری اعلامیے میں وزارت خزانہ نے کہاہے کہ مالی سال 2018-19ء اور مالی سال2019-20ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران 11.61 ٹریلین قرض کی خبروں کا ماخذ خزانہ ڈویژن کی جانب سے حالیہ دنوں میں فسکل رسپانسبلٹی اینڈ لمی ٹیشن ایکٹ2005ء کی شق6 اور7 کے تحت قومی اسمبلی میں جمع کرائی جانے والی ڈیٹ پالیسی سٹیٹمنٹ اور فسکل پالیسی سٹیٹمنٹ ہیں جومالی سال 2018-19ء اور مالی سال2019-20ء کی پہلی سہ ماہی کے15 ماہ پر محیط عرصہ سے متعلق تھیں اورجن میں اس عرصہ کے دوران قرض اور مالیاتی کارکردگی سے متعلق تمام تفصیلات شامل تھیں۔تاہم حتمی قرضوں اور ادائیگیوں کے اعداد و شمار کو بغیر سمجھے یا سمجھائے بنا عوام تک مکمل تصویر نہیں پہنچ پاتی ہے۔ وزارت خزانہ نے واضح کیاہے کہ حتمی قرضوں اور ادائیگیوںمیں پانچ اہم اجزاء شامل ہوتے ہیں جن میں سے ایک جزو کل ملکی قرض کا ہے جبکہ دوسرا جزوسرکاری اداروں کے ذمہ واجب الادا قرضوں کا ہے۔اسی طرح اشیائے صرف کی نقل و حمل کے لیے لیا گیا قرض ، سٹیٹ بنک آف پاکستان کی غیر ملکی زر مبادلہ کی ادائیگی کی ذمہ داریاں اور نجی شعبے کے غیر ملکی قرضے بھی کل قرضوں اور ادائیگیوں کے اہم اجزاء ہیں۔اگر ان پانچوں عوامل کو مد نظر رکھا جائے تو جولائی2018ء سے ستمبر2019ء تک 15ماہ کے عرصہ میں مجموعی قرضوں اور ادائیگیوں کے حجم میں ہونے والے 11.61 ٹریلین روپے کے اضافہ میں سے صرف4.11 ٹریلین روپے (35 فیصد) مالی خسارہ پورا کرنے کے لیے خرچ کیا گیا ہے جبکہ مجموعی قرض میں3.54 ٹریلین روپے(31 فیصد) اضافہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ہوا جو پچھلی حکومت کی غلط شرح مبادلہ اور ناقص صنعتی او تجارتی پالیسیوں کی وجہ سے ہوا جس سے بھاری اور ناقابل برداشت حد کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پیدا ہو گیا جس پر قابو پانے کے لیے کرنسی کی شرح تبادلہ میں فوری کمی لانا پڑی۔اسی طرح مجموعی قرض میں 2.42 ٹریلین روپے( 26 فیصد) کاا ضافہ حکومت کی جانب سے سٹیٹ بنک آف پاکستان سے مستقبل میں قرض نہ لینے کے فیصلہ کے بعد کیش بیلنس کی سطح بڑھانے سے ہوا ہے جو مشکل اورغیر متوقع حالات سے نبٹنے کے لیے محفوظ کی گئی ہے تاہم اس کا مجموعی قرض پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔مزید برآں 0.25 ٹریلین روپے(3 فیصد) کا قرض اس فرق کی وجہ سے ہے جو سٹیٹ بنک آف پاکستان کے جاری کردہ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز(پی آئی بی) کی فیس ویلیو جو کہ قرضے کے اندراج کے لیے استعمال ہوتی ہے اور حاصل شدہ ویلیو جس کا بجٹ وصولی کے طور پر اندراج ہوتا ہے ،میں ہوتا ہے تاہم سٹیٹ بنک آف پاکستان کی غیر ملکی زر مبادلہ کی ادائیگی کی ذمہ داریوں کو قرض نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ اس کی تلافی یا اس کا خلا پر کرنے کے لیے سٹیٹ بنک آف پاکستان کے لکوئیڈ اثاثہ جات دستیاب ہیں۔علاوہ ازیں0.47 ٹریلین روپے(4 فیصد) قرض کی رقم سرکاری اداروں کی جانب سے ان کی مالی ضروریات پورا کرنے کے لیے حاصل کی گئی ہے۔اسی طرح کموڈٹی آپریشن کی مد میں0.08 ٹریلین روپے(منفی01 فیصد) قرض کی واپسی ایک خوش آئند امر ہے۔وزار ت خزانہ نے مزید کہا ہے کہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں پاکستان کے نجی شعبے کے غیر ملکی قرضوں کے حجم میں0.8 ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا ہے تاہم یہ حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے اور نہ ہی یہ غیر ملکی زر مبادلہ پر اپنے نتائج کے اعتبار سے مجموعی قرضوں اور ادائیگیوں کے حجم میں شامل ہوتی ہے تاہم نجی شعبے کے غیر ملکی قرضوں میں اضافہ ایک مثبت رحجان ہے جس سے ملک کے نجی شعبے کی اپنی کاروباری سرگرمیوںکو بڑھاوا دینے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے اشتراک و روابط کی عکاسی ہوتی ہے۔









