حکومت کافائبر ٹو دی ہوم کوریج کو ایک کروڑ گھروں تک بڑھانے کا ہدف ہے ، شزہ فاطمہ خواجہ

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ حکومت آنے والے برسوں میں فائبر ٹو دی ہوم (ایف ٹی ٹی ایچ) کوریج کو ایک کروڑ گھروں تک پہنچانے کا ہدف رکھتی ہے

اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ حکومت آنے والے برسوں میں فائبر ٹو دی ہوم (ایف ٹی ٹی ایچ) کوریج کو ایک کروڑ گھروں تک پہنچانے کا ہدف رکھتی ہے جس سے ملک بھر میں قابلِ اعتماد انٹرنیٹ سہولیات تک رسائی میں نمایاں بہتری آئے گی۔بدھ کوانہوں نے "دی جھگّی والا سٹوری” کے عنوان سے منعقدہ کمیونٹی مرکزیت پر مبنی کنکٹیویٹی پالیسی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فائبر ٹو دی ہوم کوریج تقریباً 30 لاکھ گھروں سے بڑھ کر 50 لاکھ سے زائد گھروں تک پہنچ چکی ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کا ہدف ہے کہ آنے والے برسوں میں اس کوریج کو ایک کروڑ گھروں تک بڑھایا جائے جس سے عوام کو معیاری اور مستحکم انٹرنیٹ سہولیات میسر آئیں گی۔انہوں نے حکومت کے اس وسیع منصوبے کا بھی ذکر کیا جس کے تحت مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز میں 10 لاکھ افراد کو تربیت دی جائے گی۔ اس پروگرام میں زراعت، صنعت اور روایتی پیشوں سے وابستہ غیر تکنیکی افراد کو خصوصی طور پر شامل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل خواندگی اور مصنوعی ذہانت کی مہارتیں اب ہر شعبےخواہ کوئی مزدور ہو، معمار، وکیل یا ڈاکٹر کی ضرورت بن چکی ہیں ، پیشہ وارانہ ترقی اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لئے تکنیکی آگاہی ناگزیر ہو گئی ہے۔ شزہ فاطمہ خواجہ نے ٹیلی کام سیکٹر میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رائٹ آف وے چارجز کے خاتمے اور متعلقہ قانون سازی کے اقدامات سے پالیسی کے تسلسل اور طویل المدتی استحکام کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبوں نے بھی ان اقدامات کی حمایت کی ہے۔ان کے مطابق یہ اصلاحات اس لئے ضروری ہیں کیونکہ ڈیجیٹل رابطہ براہِ راست شہریوں خصوصاً دیہی علاقوں کی خواتین کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتا ہے جبکہ محدود رسائی عدم مساوات اور ڈیجیٹل خلیج میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت سے تیزی سے بدلتی دنیا میں پالیسی سازی اور اس پر عملدرآمد میں تاخیر کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔وفاقی وزیر نے صنفی ڈیجیٹل تفاوت میں کمی کے حوالے سے پیشرفت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں مرد و خواتین کے درمیان فرق کم ہوا ہے تاہم ابھی بھی بعض چیلنجز موجود ہیں۔انہوں نے بتایا کہ لاکھوں خواتین کو ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جا چکی ہے جبکہ نوجوانوں اور نئے سیکھنے والوں کے لئے ہر چھ ماہ بعد مفت آن لائن تربیتی مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت اداروں جیسے اگنائٹ اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے جدید ڈیجیٹل تربیتی کورسز کا انعقاد بھی کر رہی ہے جبکہ اب تک لاکھوں نوجوانوں کو ڈیجیٹل، سافٹ اور کاروباری مہارتوں کی تربیت دی جا چکی ہے۔سماجی تحفظ کے پروگراموں میں ڈیجیٹل شمولیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاکھوں خواتین کو مالی امداد کی وصولی کے لئے ڈیجیٹل والٹس استعمال کرنے کے قابل بنایا گیا ہے جس سے وہ یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی، موبائل بیلنس ری چارج اور آن لائن خریداری جیسی سہولیات سے بھی فائدہ اٹھا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام نے رکاوٹوں کو کم کیا، شفافیت کو فروغ دیا اور خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے میں مدد فراہم کی ہے۔انہوں نے کہاکہ موبائل فون تک رسائی یا انٹرنیٹ کے استعمال سے متعلق سابقہ مسائل کو ہدفی اقدامات اور مؤثر پالیسی سازی کے ذریعے بڑی حد تک حل کر لیا گیا ہے۔جھگّی والا نامی قصبے کا حوالہ دیتے ہوئے، جس کی آبادی تقریباً 13 ہزار افراد پر مشتمل ہے، انہوں نے کہا کہ اگر 200 خواتین اور 25 ٹرینرز کو تربیت دی جائے تو اس کے مثبت اثرات پورے علاقے اور گرد و نواح تک پھیل سکتے ہیں جس سے آنے والی نسلیں بھی مستفید ہوں گی۔انہوں نے اس نوعیت کے پروگراموں کے پائیدار ہونے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں وقتی یا عارضی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ قومی سطح کے مستقل فریم ورک کا حصہ بنایا جانا چاہئے۔شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان کی ترقیاتی حکمتِ عملی ایک کثیر فریقی ماڈل پر مبنی ہے جس میں سرکاری ادارے، نجی ٹیلی کام کمپنیاں، ترقیاتی شراکت دار اور سول سوسائٹی شامل ہیں جبکہ نوجوانوں اور خواتین کی شمولیت کو معاشی ترقی اور ڈیجیٹل تبدیلی کا مرکز بنایا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے ترقیاتی اقدامات بھی کمیونٹیز پر طویل المدتی مثبت اثرات مرتب کر سکتے ہیں اور ڈیجیٹل مہارتوں اور کنکٹیویٹی کے فروغ سے ہزاروں افراد اور آنے والی نسلوں کی زندگیاں تبدیل کی جا سکتی ہیں۔وفاقی وزیر نے پروگرام کے شرکاء بالخصوص خواتین اور ان کے اہلخانہ کے اعتماد اور فعال شرکت کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان میں سے بہت سی خواتین مستقبل میں کامیاب کاروباری شخصیات اور صنعت کار بنیں گی۔

مزید خبریں