صوبے بھر میں امن و امان اور پولیسنگ نیٹ ورک کو مضبوط بنانا ہے، وزیر اعلی سندھ

وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ بجٹ 2026-27پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقیاتی اقدامات کیلئے 7.3ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس کا مقصد صوبے بھر میں امن و امان اور پولیسنگ نیٹ ورک کو مضبوط بنانا ہے

کراچی۔ 17 جون (اے پی پی):وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ بجٹ 2026-27پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقیاتی اقدامات کیلئے 7.3ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس کا مقصد صوبے بھر میں امن و امان اور پولیسنگ نیٹ ورک کو مضبوط بنانا ہے۔ وزیر اعلی سندھ نے ایوان کو بتایا کہ پولیسنگ اور انٹیلیجنس کی زیر قیادت موثر کارروائیوں کے نتیجے میں جرائم میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے، خاص طور پر کراچی میں جہاں گاڑیوں کی چوری اور چھیننے کی وارداتوں میں 67 فیصد اور اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں 54 فیصد کمی آئی ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت نے شکارپور، کشمور اور گھوٹکی کے کچے کے علاقوں میں سرگرم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کریک ڈائون جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران ڈکیتوں کے خلاف آپریشنز پر 872 ملین روپے استعمال کیے گئے جس کے نتیجے میں حکومت کی ہتھیار ڈالنے کی پالیسی کے تحت 141 مقابلوں کے دوران 48 ڈاکو ہلاک ہوئے اور 140 ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جبکہ 475 غیر قانونی ہتھیار برآمد کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تقریبا 115,000 ایکڑ کچے کی اراضی کو مجرمانہ اثر و رسوخ سے پاک کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ انسداد دہشت گردی کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کا فیوژن سینٹر 772 ملین روپے کی لاگت سے مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے جبکہ اس کے دوسرے مرحلے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ سہولت کے باعث 952 ڈیجیٹل شواہد پر کارروائیاں کی گئی اور 164 سی سی ٹی وی اور ویڈیو ریکارڈنگز کا تجزیہ کیا گیا، انٹیلیجنس پر مبنی تحقیقات کو مضبوط بناتے ہوئے 210 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔ وزیر اعلی نے کہا کہ حکومت نے ٹیکنالوجی پر مبنی ٹریفک مینجمنٹ ریفارمز بھی متعارف کروائی ہیں جن میں اے آئی سے چلنے والا فیس لیس ای ٹکٹنگ سسٹم بھی شامل ہے جس نے 1.07 ملین سے زیادہ ای ٹکٹیں تیار کیں اور840.7ملین روپے جرمانے وصول کئے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے ٹریفک حادثات میں 32 فیصد کمی، اموات میں 31 فیصد اور زخمیوں میں 39 فیصد کمی گزشتہ سال کے مقابلے میں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سیف سٹی سرویلنس نیٹ ورک نے اپنے انسٹالیشن کے ہدف کو عبور کر لیا ہے، چہرے کی شناخت اور خودکار نمبر پلیٹ ریکگنیشن ٹیکنالوجی سے لیس 1,325 اسمارٹ کیمرے اب کام کر رہے ہیں۔ پولیسنگ کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے، انہوں نے کہا کہ 1,487 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کو بھرتی کیا گیا تھا جبکہ حکومت نے تفتیشی صلاحیتوں کو بڑھانے کیلئے 2,000تفتیشی افسران کی بھرتی کی منظوری دی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ بھر کے 40ماڈل تھانوں میں جدید کاری کا کام بھی جاری ہے تاکہ قانون نافذ کرنے والے مزید موثر، جوابدہ اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے جدید ترین نظام کی تعمیر کے لیے وسیع تر کوششوں کا حصہ بنایا جا سکے۔

مزید خبریں