سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کمیٹی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن( تنظیم نو)ترمیمی بل پر غور موخر کر دیا، نجی املاک کے حقوق سے متعلق شقوں پر نظرثانی کا مطالبہ

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی زیر صدارت منعقد ہوا

اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔بدھ کو سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں سینیٹرز ندیم احمد بھٹو، ڈاکٹر افنان اللہ خان، سعدیہ عباسی، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے سینئر حکام، متعلقہ اداروں کے نمائندگان اور دیگر سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔کمیٹی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیم نو) ایکٹ 1996 کے تحت پیش کیے گئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیم نو) (ترمیمی) بل 2026 کا تفصیلی جائزہ لیا جو وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ مجوزہ ترامیم بنیادی طور پر تین شعبوں پر مشتمل ہیں جن میں سرکاری ملکیتی اداروں کے اصولوں کے مطابق ادارہ جاتی اصلاحات، ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی توسیع اور سہولت کاری اور ریگولیٹری نظام میں آپریشنل کارکردگی اور شفافیت کو بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔حکام نے آگاہ کیا کہ مجوزہ اصلاحات کا مقصد فائبر نیٹ ورک کی تنصیب کے لیے رائٹ آف وے سے متعلق طریقہ کار کو آسان بنانا، تنازعات کے حل کے نظام کو مضبوط کرنا، قومی ڈیجیٹل رابطہ کاری کے اہداف کے حصول میں معاونت فراہم کرنا اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ یہ ترامیم ملک بھر میں فائبر نیٹ ورک کے پھیلائو اور انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کی توسیع کو تیز کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی ہیں۔کمیٹی کے اراکین نے مناسب حکومت (Appropriate Government) کے اختیارات، عملدرآمد سے متعلق شقوں میں صوابدیدی اختیارات کے استعمال اور نجی املاک کے حقوق پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔سینیٹرز نے زور دیا کہ کسی بھی فرد کو واضح قانونی تحفظات، باہمی رضامندی کے طریقہ کار اور شفاف تنازعاتی حل کے نظام کے بغیر ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی تنصیب کی اجازت دینے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔اراکین نے بالخصوص زمین تک رسائی، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب اور رائٹ آف وے دینے سے انکار کی صورت میں عائد کی جانے والی سزائوں کی تشریح سے متعلق شقوں پر سوالات اٹھائے۔ان تحفظات کے جواب میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے نمائندگان نے وضاحت کی کہ مجوزہ فریم ورک نجی املاک کے جبری حصول یا قبضے کی اجازت نہیں دیتا اور انفراسٹرکچر کی تنصیب باہمی معاہدوں، قانونی طریقہ کار اور متعین تنازعاتی حل کے نظام کے تحت ہی ممکن ہوگی۔ حکام نے یقین دہانی کرائی کہ نجی ملکیت کے حقوق مکمل طور پر محفوظ رہیں گے اور ابہام پیدا کرنے والی شقوں اور الفاظ کا ازسرنو جائزہ لے کر انہیں مزید واضح بنایا جائے گا۔وزارت نے مزید بتایا کہ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے نوٹسز، سماعتوں اور انتظامی نظرثانی کے طریقہ کار کو بھی مجوزہ قانون کا حصہ بنایا گیا ہے۔کمیٹی نے ادارہ جاتی تنظیم نو اور مجوزہ فریم ورک کے تحت تقرریوں سے متعلق گورننس کی شقوں پر بھی غور کیا۔ اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ عبوری انتظامات اور تفویض کردہ اختیارات شفاف اور وقت کی پابندی کے تابع ہونے چاہئیں۔تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے بل پر مزید غور موخر کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں اس کا شق وار جائزہ جاری رکھا جائے گا۔

مزید خبریں