حکومت کا آئندہ تین سال میں فائبرائزیشن کو 60 فیصد تک بڑھانے کا ہدف ہے، شزا فاطمہ خواجہ

حکومت کا آئندہ تین سال میں فائبرائزیشن کو 60 فیصد تک بڑھانے کا ہدف ہے، شزا فاطمہ خواجہ

اسلام آباد۔29اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ حکومت کا ہدف ہے کہ آئندہ تین سال کے دوران فائبرائزیشن کو تقریباً 60 فیصد تک بڑھایا جائے،ڈیجیٹل کنکٹیویٹی کو بہتر بنانا ’’ڈیجیٹل نیشن پاکستان‘‘ کے وژن کا بنیادی حصہ ہے۔بدھ کو یورپی یونین–پاکستان بزنس فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس وقت صرف 16 فیصد ٹاورز فائبرائزڈ ہیں، ہمارا ہدف ہے کہ اگلے تین سال میں اسے تقریباً 60 فیصد تک لے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان گھریلو سطح پر فائبر کنکٹیویٹی کو بھی نمایاں طور پر بڑھانے پر کام کر رہا ہے جہاں فائبرائزڈ ہوم پاسز کو موجودہ 20 سے 30 لاکھ سے بڑھا کر آئندہ دو سال میں کم از کم ایک کروڑ تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اہداف پاکستان کی وسیع تر قومی فائبرائزیشن حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد کنکٹیویٹی کو مضبوط بنانا، براڈ بینڈ رسائی کو وسعت دینا اور مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل تبدیلی کو ممکن بنانا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے تحت حکومت نے فائبر بچھانے میں آسانی کے لئے رائٹ آف وے چارجز ختم کر دیئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ پالیسی نجی شعبے کے لئے سرمایہ کاری کو پرکشش بنانے اور انفراسٹرکچر کی تیز رفتار ترقی میں مدد دے گی۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام نے فائبرائزیشن کو کاروبار دوست اور سرمایہ کاری کے لئے تیار بنا دیا ہے جس سے نجی شعبہ مرکزی کردار ادا کر سکے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل کنکٹیویٹی کو بہتر بنانا ’’ڈیجیٹل نیشن پاکستان‘‘ کے وژن کا بنیادی حصہ ہے،بین الاقوامی کنکٹیویٹی میں پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان نے کامیابی کے ساتھ دو سے تین سب میرین انٹرنیٹ کیبلز شامل کی ہیں، ان میں سے دو رواں سال فعال ہو جائیں گی جبکہ ایک اگلے سال فعال ہوگی جس سے پاکستان کی عالمی انٹرنیٹ بینڈوڈتھ اور کنکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ معاہدے بھی کئے ہیں تاکہ ملک کو علاقائی ڈیٹا ٹرانزٹ حب بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ چین سے کراچی تک ڈیٹا ٹرانزٹ روٹس پہلے ہی فعال ہو چکے ہیں جبکہ وسطی ایشیا اور واخان کوریڈور کے ذریعے متبادل راستے بھی تیار کئے جا رہے ہیں۔

ٹیلی کام صلاحیت کے چیلنجز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے محدود 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پر انحصار کر رہا تھا جو 2014 سے 2016 کے دوران تھری جی، فور جی کے آغاز کے وقت مختص کیا گیا تھا، بڑھتی ہوئی طلب اور ڈیٹا استعمال میں اضافے کے باعث یہ ناکافی ثابت ہو رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال میں ڈیٹا استعمال میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کی بڑی وجہ 15 کروڑ سے زائد نوجوان ڈیجیٹل صارفین ہیں،اس کمی کو پورا کرنے کے لئے حکومت نے حال ہی میں 700 سے 3500 میگا ہرٹز تک کے پانچ فریکوئنسی بینڈز پر مشتمل ایک بڑا سپیکٹرم آکشن کیا جس میں 480 میگا ہرٹز سپیکٹرم فروخت کیا گیا۔ انہوں نے اسے عالمی سطح پر بڑے سپیکٹرم الاٹمنٹس میں سے ایک قرار دیا۔

اس اضافہ کے بعد پاکستان کا کل سپیکٹرم 750 میگا ہرٹز سے تجاوز کر گیا ہے جو فور جی سروسز کو بہتر بنانے اور فائیو جی ٹیکنالوجی کے آغاز میں مدد دے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 98 فیصد صارفین موبائل براڈ بینڈ پر انحصار کرتے ہیں جبکہ صرف 2 فیصد کو فائبر نیٹ ورک تک رسائی حاصل ہے جو ایک بڑا انفراسٹرکچر خلا ء ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ فائبر کا پھیلاؤ مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے، سروس کے معیار کو بہتر بنانے اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے لئے ناگزیر ہے۔شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان کا معاشی اور سماجی ڈھانچہ تیزی سے ڈیجیٹل نظام کی طرف منتقل ہو رہا ہے جس میں تعلیم، صحت، لاجسٹکس اور قومی سلامتی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک جیسے ادارے پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پروگرامز کی حمایت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کراچی سے وسطی ایشیا، بحیرہ کیسپین، آذربائیجان اور یورپ تک علاقائی کنکٹیویٹی نیٹ ورک بنانے پر کام کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ڈیجیٹل شناختی نظام بھی تیار کیا جا رہا ہے جس میں شہریوں کا ڈیٹا مختلف خدمات جیسے پیدائش، تعلیم، صحت، جائیداد اور کاروباری رجسٹریشن کے ساتھ مربوط ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایک قومی ڈیجیٹل ریگولیٹری نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے جس سے کاروبار ایک ہی پلیٹ فارم پر تمام قوانین تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے قوانین کو جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن (GDPR) کے مطابق ہم آہنگ کر رہا ہے تاکہ شفافیت اور اعتماد کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان 24 کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ ایک بڑی مارکیٹ ہے جس میں 60 فیصد سے زائد نوجوان ہیں جبکہ 20 کروڑ موبائل صارفین اور 15 کروڑ انٹرنیٹ صارفین موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنا رہی ہے۔انہوں نے راست ڈیجیٹل ادائیگی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کو کیش لیس معیشت کی طرف لے جا رہا ہے جس سے شفافیت اور مالی شمولیت میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین–پاکستان بزنس فورم ڈیجیٹل شعبے میں پاکستان اور یورپ کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی کرتا ہے اور یورپی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

مزید خبریں