حکومت کی جانب سے 8 لاکھ کاشتکاروں کو کسان کارڈ کے ذریعے 250 ارب روپے کے بلاسود زرعی قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، سیکرٹری زراعت پنجاب

ملتان۔ 07 مارچ (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب اور فاطمہ فرٹیلائزر کے باہمی اشتراک سے کپاس کی پیداواری مہم کے سلسلے میں ایک اہم کسان کنونشن محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے جبکہ کاشتکاروں اور زرعی شعبے سے وابستہ دیگر اسٹیک ہولڈرز کی بڑی تعداد نے کنونشن میں شرکت کی۔ تقریب میں سپیشل …

ملتان۔ 07 مارچ (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب اور فاطمہ فرٹیلائزر کے باہمی اشتراک سے کپاس کی پیداواری مہم کے سلسلے میں ایک اہم کسان کنونشن محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے جبکہ کاشتکاروں اور زرعی شعبے سے وابستہ دیگر اسٹیک ہولڈرز کی بڑی تعداد نے کنونشن میں شرکت کی۔ تقریب میں سپیشل سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب سرفراز حسین مکسی، وائس چانسلر محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر آصف علی، کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم، ایڈیشنل سیکرٹری ٹاسک فورس شبیر احمد خاں، ڈائریکٹر جنرلز محکمہ زراعت پنجاب عبدالحمید، نوید عصمت کاہلوں، ڈاکٹر عامر رسول، ڈاکٹر عبدالقیوم، کنسلٹنٹ محکمہ زراعت ڈاکٹر محمد انجم علی، صدر کسان اتحاد خالد محمود کھوکھر، ڈاکٹر سعید اقبال (فارمر ایڈوائزری سروسز فاطمہ فرٹیلائزر) سمیت کاشتکاروں اور زرعی ماہرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔کنونشن کے دوران ماہرینِ زراعت نے کاشتکاروں کو کپاس کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی، بہتر کاشت، بیماریوں کے تدارک اور زیادہ پیداوار کے حصول کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا کہ زرعی ترقی اور کاشتکاروں کی خوشحالی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب زرعی شعبے میں جدت اور ترقی کے لیے فیاضانہ وسائل فراہم کر رہی ہیں تاکہ جدید زرعی ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کا پہیہ چلانے میں کپاس اور اس کی مصنوعات بنیادی حیثیت رکھتی ہیں، اس لیے کپاس کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل اور ذرائع بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کپاس کی کامیابی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔افتخار علی سہو نے کہاکہ پنجاب میں رواں سیزن کے دوران 7 لاکھ ایکڑ رقبہ پر کپاس کی اگیتی کاشت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جسے ملتان، ساہیوال، فیصل آباد اور ڈیرہ غازی خان ڈویژنز میں حاصل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بہاولپور ڈویژن کو“کاٹن ویلی”بنانے کے لیے قریباً 2 ارب روپے کی لاگت سے خصوصی پروگرام پر عمل درآمد جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ خریف کی فصل کے لیے مارکیٹوں میں ڈی اے پی اور یوریا کھاد کے وافر اسٹاک دستیاب ہیں تاکہ کاشتکاروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کی جانب سے 8 لاکھ کاشتکاروں کو کسان کارڈ کے ذریعے 250 ارب روپے کے بلاسود زرعی قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں۔سیکرٹری زراعت پنجاب نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے“اپنا کھیت، اپنا روزگار”پروگرام کے تحت محکمہ زراعت کاشتکاروں کی بہتری اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں بھرپور انداز میں بروئے کار لا رہا ہے۔ کنونشن سے کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم،وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹرآصف علی،خالد محمود کھوکھر، ڈاکٹر سعید اقبال فاطمہ فرٹیلائزر و ڈائریکٹر جنرلز زراعت نے خطاب کیا۔قبل ازیں سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے ٹریکٹر چلا کر کپاس کی اگیتی کاشت کا باقاعدہ افتتاح کیا۔