چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے مولوی جی ہسپتال پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بی آئی ایس پی کے زیر انتظام قائم بے نظیر نشوونما مرکز کا معائنہ کیا اور فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا
چیئرپرسن بی آئی ایس پی روبینہ خالد کا مولوی جی ہسپتال پشاور کا دورہ، نشوونما پروگرام مزید شفاف بنانے کا اعلان

مزید خبریں
پشاور۔ 23 جولائی (اے پی پی):چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے مولوی جی ہسپتال پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بی آئی ایس پی کے زیر انتظام قائم بے نظیر نشوونما مرکز کا معائنہ کیا اور فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران چیئرپرسن نے نشوونما مرکز میں موجود عملے سے ملاقات کی، ان سے درپیش مسائل دریافت کیے اور خدمات کی فراہمی سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر ہسپتال انتظامیہ نے انہیں نشوونما پروگرام اور مرکز کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روبینہ خالد نے کہا کہ وہ پشاور میں بے نظیر نشوونما پروگرام کا جائزہ لینے آئی ہیں اور یہ منصوبہ پشاور کے عوام کے لیے ایک اہم تحفہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا ایک مؤثر سماجی تحفظ کا پروگرام ہے جس سے ایک کروڑ سے زائد مستحق خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پروگرام کے حوالے سے کسی بھی قسم کی خبر نشر کرنے سے قبل میڈیا کو حقائق کی تصدیق کرنی چاہیے کیونکہ بے بنیاد اطلاعات سے مستحق افراد کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام خیرات یا بھیک نہیں بلکہ مستحق خاندانوں کا حق ہے، اس لیے ایسی باتوں سے گریز کیا جانا چاہیے جو ان کی تضحیک کا باعث بنیں۔چیئرپرسن نے واضح کیا کہ بی آئی ایس پی سے متعلق سمیں صرف پروگرام کے مجاز دفاتر سے مفت فراہم کی جاتی ہیں اور مستحقین سے اس مد میں کسی قسم کی رقم وصول نہیں کی جاتی۔انہوں نے کہا کہ حکومت پروگرام میں انسانی مداخلت کو کم سے کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ پہلے امدادی رقوم مخصوص مراکز سے وصول کی جاتی تھیں، تاہم رواں ماہ کی قسط کے بعد مستحقین ملک بھر میں مجاز ریٹیل دکانوں سے بھی اپنی رقوم وصول کر سکیں گے۔ ان کے مطابق ادائیگیوں کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے تاکہ شفافیت اور سہولت میں مزید اضافہ ہو۔روبینہ خالد نے خبردار کیا کہ جو عناصر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام استعمال کرکے لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور پروگرام میں مزید شفافیت لانے کے لیے اصلاحات پر تیزی سے کام جاری ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بنیادی مقصد غریب اور مستحق خاندانوں کی معاونت ہے اور حکومت اس پروگرام کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔








