وفاقی حکومت اور حکومت پنجاب منہ کھر بیماری کے کنٹرول کے لیے تکنیکی اور قانونی اصلاحات پر مل کر کام کریں گی،سید عاشق حسین کرمانی

منہ کھر بیماری کے صوبہ پنجاب میں تدارک و کنٹرول کے لیے کیے جانے والے اقدامات، پیش رفت اور مستقبل کی حکمت عملی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین اور صوبائی وزیر لائیو سٹاک و زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے کی۔

لاہور۔23جولائی (اے پی پی):منہ کھر بیماری کے صوبہ پنجاب میں تدارک و کنٹرول کے لیے کیے جانے والے اقدامات، پیش رفت اور مستقبل کی حکمت عملی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین اور صوبائی وزیر لائیو سٹاک و زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے کی۔اجلاس میں سیکرٹری لائیو سٹاک پنجاب احمد عزیز تارڑ، ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل ڈاکٹر عثمان طاہر، ڈائریکٹر جنرل ریسرچ ڈاکٹر سجاد حسین، ڈائریکٹر جنرل ایکسٹینشن ڈاکٹر سید ندیم بدر، ڈائریکٹر کمیونیکیشن اینڈ ایکسٹینشن ڈاکٹر خالق شفیع اور دیگر متعلقہ ماہرین نے شرکت کی۔اجلاس کے آغاز پر صوبائی وزیر لائیو سٹاک و زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ پنجاب میں منہ کھر بیماری کے تدارک اور کنٹرول کے لیے ڈیزیز سرویلنس کا عمل جاری ہے، جبکہ منصوبے کی فیزیبلٹی کا جائزہ لینے کے لیے کنسلٹنٹ بھی ہائر کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ منہ کھر بیماری کے کنٹرول کے لیے پنجاب اپنی ویکسین کی80 ملین خوراکیں خود تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکے گا۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے15 ڈیزیز فری کمپارٹمنٹس موثر انداز میں کام کر رہے ہیں۔یہ منصوبہ اب اپنے دوسرے سال میں داخل ہو چکا ہے۔اس موقع پر فوکل پرسن نیشنل پروگرام برائے تدارک منہ کھر بیماری/ ڈائریکٹر جنرل ریسرچ ڈاکٹر سجاد حسین نے شرکا کو سابقہ اجلاس کے ایجنڈے پر ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ حکومت پنجاب کا وفاقی حکومت کے پروگرام برائے انسداد و تدارک منہ کھر بیماری اور پی پی آر کا حصہ بنے کیلئے منظوری کا منصوبہ کابینہ کے پا س ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت عالمی ادارہ برائے حیوانی صحت کی تجویز کردہ سفارشات پر عملدرآمد کے لیے خلوصِ نیت سے کوشاں ہے۔

انہوں نے وفاقی حکومت سے اس سلسلے میں تعاون کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی سطح پر معاونت سے بیماریوں کے کنٹرول اور لائیو سٹاک مصنوعات کی برآمدات کے اہداف کے حصول میں مزید تیزی لائی جا سکتی ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ساڑھے چار لاکھ جانوروں اور ان کے گوشت کی برآمد کے لیے میٹ ایکسپورٹرز کو مختلف اضلاع الاٹ کیے ہیں،جبکہ اس سلسلے میں مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط ہو چکے ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت پنجاب ضلع بہاولنگر کے علاقے میں ڈیزیز فری زون کے قیام کا اردہ رکھتی ہے۔شرکا نے اس امر پر بھی غور کیا کہ اگر عبدالحکیم والا کے علاقے کے ساتھ بھی ڈیزیز فری زون قائم کر دیا جائے تو گوشت کی برآمدات میں مزید بہتری کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

صوبائی وزیر لائیو سٹاک و زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت اس سلسلے میں فیزیبلٹی کی تیاری اور دیگر تکنیکی امور میں معاونت فراہم کرے تو مقررہ اہداف کا حصول مزید تیزی سے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔اجلاس میں منہ کھر بیماری کے کنٹرول کے لیے صوبائی اور وفاقی اداروں کے درمیان باہمی مشاورت، تکنیکی تعاون اور معلومات کے تبادلے کو مزید موثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس سلسلے میں بیماریوں کی نگرانی، ویکسینیشن، تشخیصی سہولیات، قانونی فریم ورک اور دیگر ضروری تکنیکی و انتظامی اصلاحات پر مشترکہ طور پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ وفاقی حکومت اور حکومت پنجاب منہ کھر بیماری کے موثر کنٹرول، ڈیزیز فری زونز اور کمپارٹمنٹس کے قیام، عالمی معیار کے بیماریوں سے پاک نظام اور لائیو سٹاک مصنوعات کی برآمدات کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گی۔