اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے والوں کے اپنے خلاف پارٹی میں تحریک شروع ہو گئی ہے، پی ڈی ایم میں شامل پارٹیوں کی سمتیں مختلف اور اختلافات کھل کر سامنے آچکے ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تحریک میں زور پیدا ہونے کی بجائے مایوسی اور شکست کا سماں ابھر رہا ہے،نواز …
حکومت کے خلاف تحریک چلانے والوں کے اپنے خلاف پارٹی میں تحریک شروع ہو گئی ، وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیابریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے والوں کے اپنے خلاف پارٹی میں تحریک شروع ہو گئی ہے، پی ڈی ایم میں شامل پارٹیوں کی سمتیں مختلف اور اختلافات کھل کر سامنے آچکے ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تحریک میں زور پیدا ہونے کی بجائے مایوسی اور شکست کا سماں ابھر رہا ہے،نواز شریف، آصف زرداری، مولا فضل الرحمان، مریم اور بلاول سمیت تمام اپوزیشن اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتی ہے، اپوزیشن دوہرے معیار کی بجائے فیصلہ کرلے کہ انہوں نے اسمبلیوں سے مستعفی ہونا ہے یا ضمنی الیکشن میں بھر پور حصہ لینا ہے، مولانا فضل الرحمان نے ہمیشہ غیر جمہوری طریقے استعمال کیے اسی لئے آج ان کی پارٹی کے اہم راہنماوں نے علم بغاوت بلند کر دیا ہے، وفاقی کابینہ نے چھٹی مردم شماری اور ہائوسنگ سینس 2017رپورٹ مشترکہ مفادات کونسل کی حتمی منظوری کے لیے پیش کرنے کی اجازت، زرعی ترقیاتی بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی نتظیم نو اور سرمایہ کاری بورڈ میں وزیرصنعت و پیدا وا کی شمولیت کی منظور ی دیدی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے۔ وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے بتایا کہ وفاقی کابینہ اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے نے کابینہ کو مارگلہ روڈ اسلام آباد پر تجاوزات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ وزارت دفاع نے اس ضمن میں کابینہ کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ کابینہ نے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے تمام ملازمین پر پاکستان ایسینشل سروسز مینٹیننس ایکٹ 1952 کے اطلاق کی مزید چھ مہینے کے لیے منظوری دی۔ کابینہ نے سی ڈی اے آرڈیننس 1960 میں ترامیم کی منظوری دی۔ یہ ترامیم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے منظور کی گئی ہیں۔ کابینہ نے STEDEC ٹیکنالوجی کمرشلائزیشن کارپوریشن آف پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشیونوگرافی کے ڈائریکٹر جنرل تعینات کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے چھٹی مردم شماری اور ہاوسنگ سینس 2017 رپورٹ مشترکہ مفادات کونسل کی حتمی منظوری کے لیے پیش کرنے کی اجازت دی۔ کابینہ نے زرعی ترقیاتی بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تنظیم نو کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے سرمایہ کاری بورڈ میں وزیرصنعت و پیدا وا کی شمولیت کی منظور ی دی۔ کابینہ نے پاکستان نیوی کی آپریشنل ضروریات پوری کرنے کے لیے JP-5تیل درآمد کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ کو نیپرا کی سالانہ رپورٹ برائے 2019-20 اوربجلی صنعت کی جائزہ رپورٹ 2020پیش کی گئی۔کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ قابل تجدید توانائی کے فروغ کے لیے کام جاری ہے۔ توانائی شعبے میں مقابلے کے رحجان کوبڑھایا جارہا ہے تاکہ صارفین کو سستی بجلی مہیا کی جاسکے۔ توانائی اور تحقیقی اداروں کے درمیان روابط کو مزید مستحکم کیا جارہا ہے تاکہ توانائی کے شعبے میں جدت لائی جاسکے۔کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مورخہ 16دسمبر 2020 کو ہونے والے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔کابینہ نے وزیر داخلہ کو ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں ترامیم کرنے کے اختیارات تفویض کرنے کی اجازت دی۔ یہ منظوری صرف عدلیہ کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے دی گئی ہے۔ تاہم ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں ترمیم کی حتمی منظوری کابینہ سے لی جائے گی،جس کی سفارش کابینہ کمیٹی دے گی۔ کابینہ کمیٹی وزیر داخلہ اور وزیر قانون پر مشتمل ہوگی جبکہ مشیر داخلہ و احتساب اور سیکرٹری داخلہ خصوصی دعو ت پر اجلاس میں شریک ہو سکیں گے۔کابینہ نے پاکستان میڈیکل کمیشن ایکٹ 2020 کے تحت ایگزیکٹو ممبر نیشنل میڈیکل اتھارٹی تعینات کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے وفاقی میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹس آرڈیننس 2020 کے تحت پمز، وفاقی میڈیکل کمیشن اور سکول آف ڈینٹسٹری کے بورڈ آف گورنرز پر ممبران تعینات کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے سیکرٹری توانائی کا بطور چیئرمین پرائیویٹ پاور انفراسٹرکچر بورڈ (PPIB)،نیشنل انرجی ایفیشینسی کنزرویشن اتھارٹی (NEECA)اور الٹرنیٹوانرجی ڈویلپمنٹ بورڈ (AEDB)تعیناتی کی منظوری دی۔کابینہ نے اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز تعینات کرنے کی منظوری دی۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ آج کابینہ کی کارروائی کچھ مختلف تھی، جس طرح سے کورونا کی دوسری لہر پوری شدت سے ہے،اس صورت میں کابینہ روم میں صرف ان وزرا کو بلایا گیا جن کے ایجنڈا آئٹمز تھے، باقی وزرا ورچوئلی شریک ہوئے، اس کا مقصد بنیادی طور پر یہ ہے کہ ایک جگہ پر زیادہ لوگوں کا اکٹھا ہونا درست نہیں ہے، حکومت تمام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ، انگلینڈ کے ائیرپورٹس ویران ہو گئے ہیں، کرفیولگ چکا ہے، لوگوں کے باہر آنے جانے پر پابندیاں ہیں، ہم نہیں چاہتے ہمارا ملک ایسی صورتحال سے دوچار ہو لوگوں کی زندگیاں بھی خطرے میں ہو ں اور کاروبار کو نقصان پہنچے، بحیثیت قوم ہم نے حکومت کی اس حکمت عملی کے ساتھ تعاون کرنا ہے،پہلی حکمت عملی میں کامیاب حکمت عملی کی وجہ سے وہ نقصانات نہیں ہوئے، اس وبا نے معیشت کو بھی متاثر کرنا ہے اور ہسپتالوں پر بھی بوجھ پڑنا ہے، جہاں جہاں اپوزیشن نے جلسے کیے ہیں وہاں وائرس کی شرح بہت ذیادہ ہے، ہماری بھی کوشش تھی اور عدالتوں کابھی فیصلہ تھا کہ جلسے،جلوس اور ایسے اجتماعات جس میں لوگ اکٹھے ہوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم، پاکستان کے توانائی سے متعلق مسائل اور ان کے حل کو ترجیحی طور پر دیکھتے ہیں تاکہ ملک میں عوام کو سستی بجلی مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تحریک میں صرف مایوسی اور شکست نظر آ رہی ہے، پی ڈی ایم اپنے قول و فعل میں تضاد کے باعث بری طرح بے نقاب ہوچکی ہے،پی ڈی ایم کی سیاست بند گلی میں داخل ہوچکی ہے،کسی بھی تحریک کے قائد کی سیاسی ساکھ بہت اہم ہوتی ہے،پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ساکھ بری طرح متاثر ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے محنت اور لگن سے سیاست میں نمایاں مقام بنایا، مسلسل پانچویں مہینے کرنٹ اکاونٹ سرپلس، ترسیلات اور برآمدات میں اضافہ جبکہ شعبہ تعمیرات ترقی کررہا ہے،اپوزیشن نہیں چاہتی کہ حکومت کسی بھی طرح کامیاب ہو،ذاتی مفادات کو فوقیت دینے والوں کو رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے آپ کو صادق و امین قرار دینے کیلئے ایک فتویٰ جاری کیا ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی بڑی بڑی ہستیوں نے بھی کبھی اپنی ذات کے لیے ایسا فتوی جاری نہیں کیا ، دراصل مولانا فضل الرحمن صاحب مذہب کا لبادہ اوڑھ کر سیاست کر رہے ہیں اور سیاست کو بطور کاروبار استعمال کر رہے ہیں۔








