حکومت ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کے ٹیکس معاملات کو سپیشل کیس کے طور پر دیکھے، چیئر پرسن سی ٹی آئی اعجاز الرحمن

اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن اعجاز الرحمان نے کہا ہے کہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت ایک نمایاں برانڈ کے طور پر عالمی سطح پر پاکستان کی منفرد پہچان ہے تاہم بعض مسائل کی وجہ سے یہ صنعت مشکلات کا شکار ہے،اگر حکومت ٹیکس کے بوجھ میں کمی او ر دیگر معاملات میں معاونت کرے تو یہ صنعت آج بھی زر مبادلہ کمانے …

اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن اعجاز الرحمان نے کہا ہے کہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت ایک نمایاں برانڈ کے طور پر عالمی سطح پر پاکستان کی منفرد پہچان ہے تاہم بعض مسائل کی وجہ سے یہ صنعت مشکلات کا شکار ہے،اگر حکومت ٹیکس کے بوجھ میں کمی او ر دیگر معاملات میں معاونت کرے تو یہ صنعت آج بھی زر مبادلہ کمانے کے حجم میں مزید اضافہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مینو فیکچررز اور برآمد کنندگان کے وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سعید خان ، قمر ضیاء ،سعد الرحمان ، فیصل سعید خان ، محمود احمد، بلال احمد بٹ، احمد عرفان، محمد جعفر خالد، شیخ عامر خالد ، عثمان رشید،علی احمد سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

چیئر پرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اعجاز الرحمان نے کہا کہ کارپٹ انڈسٹری کو متعدد مشکلات کا سامنا ہے تاہم اگر حکومت سرپرستی کرے تو ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت آج بھی عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ۔

انہوں نے اسٹیک ہولڈرز پر بھی زور دیا کہ وہ صنعت کی بحالی اور برآمدات کو فروغ دینے کے لئے اپنی حکمت عملی کو متنوع بنائیں ۔ انہوں نے حکومت سے اپیل ہے کہ رواں مالی سال کے مالیاتی ایکٹ میں برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس کے نظام میں کی گئی تبدیلیوں پر دوبارہ غور کیا جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کے ٹیکس کے معاملات کو سپیشل کیس کے طور پر دیکھے گی اور حکومتی اقدامات سے صنعت کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔

مزید خبریں