خاتون اول آصفہ بھٹو سے اقوام متحدہ کے پاکستان میں ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے نمائندوں کی ملاقات

خاتون اول آصفہ بھٹو سے اقوام متحدہ کے پاکستان میں ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے نمائندوں کی ملاقات

اسلام آباد۔24جون (اے پی پی):خاتون اول و رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری سے ایوان صدر میں اقوام متحدہ کے پاکستان میں ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے نمائندوں نے ملاقات کی۔بدھ کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور اقوام متحدہ کے نظام کے درمیان تعاون، قومی ترقیاتی ترجیحات، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، سماجی تحفظ، صحت اور پائیدار ترقی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کو آرڈینیٹر کا خیرمقدم کرتے ہوئے خاتون اول نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے ساتھ اپنے قریبی اور کثیرالجہتی تعاون کو بہت اہمیت دیتا ہے اور پاکستان میں اقوام متحدہ کی کنٹری ٹیم کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

انہوں نے ملک بھر میں خدمات انجام دینے والے اقوام متحدہ کے اداروں، فنڈز اور پروگراموں کی کاوشوں کو سراہا اور بالخصوص عوامی صحت، بچوں کی فلاح، پائیدار ترقیاتی اہداف اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ آصفہ بھٹو زرداری نے قومی ترقیاتی ترجیحات اور منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے اقوام متحدہ کی کنٹری ٹیم کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔بریفنگ کے دوران انہیں آگاہ کیا گیا کہ اقوام متحدہ 1947ء سے پاکستان میں موجود ہے اور اس وقت ملک بھر میں تقریباً 4,000 ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہیں پاکستان کی ترقی، انسانی ہمدردی اور سماجی شعبوں کی ترجیحات کے لیے مختلف اقوام متحدہ کے اداروں کی معاونت کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔

صحت سے متعلق اقدامات پر گفتگو کرتے ہوئے خاتون اول نے پولیو سے پاک پاکستان کے ہدف کے حصول کے عزم کا اعادہ کیا اور انسداد پولیو مہم میں اقوام متحدہ کی مسلسل معاونت کو سراہا۔ محمد یحییٰ نے پولیو کے خاتمے کے لیے خاتون اول کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آئندہ بارہ ماہ اس مقصد کے حصول کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔خاتون اول نے عوامی صحت کے شعبے میں جدت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمیت جدید ٹیکنالوجیز کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے کہ پولیو ویکسین ہر گھر تک پہنچ سکے۔انہوں نے پاکستان بھر میں زچہ و بچہ کی صحت اور غذائیت کی خدمات کو مضبوط بنانے میں اقوام متحدہ کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔ اس ضمن میں انہوں نے خواتین اور بچوں کی فلاح کے لیے ’’بینظیر نشوونما پروگرام‘‘ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

خاتون اول کو بتایا گیا کہ پاکستان میں تقریباً 41 فیصد بچے نشوونما کی کمی (Stunting) کا شکار ہیں جو دنیا میں بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے جبکہ غذائی قلت بچوں کی صحت، تعلیمی کارکردگی اور مستقبل کے مواقع پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ بریفنگ میں زچہ کی صحت، خون کی کمی (Anemia)، کم عمری کی شادیوں اور تربیت یافتہ طبی سہولیات تک رسائی کے مسائل پر بھی روشنی ڈالی گئی۔بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ بچوں اور مائوں کی صحت پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور کا اہم حصہ ہے اور خواتین و بچوں کی صحت اور غذائیت کے بہتر نتائج کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ملاقات میں خواتین کی صحت، بچیوں کی تعلیم، معاشی شمولیت اور صنفی بنیادوں پر تشدد سے تحفظ کے امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ خاتون اول نے خواتین کے لیے بہتر مواقع، تعلیم، صحت اور معاشی خودمختاری کے فروغ کے اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا۔

آصفہ بھٹو زرداری نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ پاکستان کی ترقیاتی اور موسمیاتی مالی معاونت کے حصول کی کوششوں میں اپنا تعاون جاری رکھے گا۔خاتون اول نے موسمیاتی تبدیلی کو موجودہ دور کے سب سے اہم چیلنجز میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے 2022ء اور 2025ء کے سیلابوں کا حوالہ دیتے ہوئے آفات سے نمٹنے اور بحالی کی کوششوں میں اقوام متحدہ کے تعاون کو سراہا جس میں جنوری 2023ء میں ’’کلائمیٹ ریزیلینٹ پاکستان‘‘ سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کی مشترکہ میزبانی بھی شامل ہے۔انہوں نے ’’لیونگ انڈس‘‘ اور ’’ری چارج پاکستان‘‘ جیسے منصوبوں کو موسمیاتی موافقت اور طویل مدتی استحکام کے لیے اہم قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ اقوامِ متحدہ پاکستان میں اپنی انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں میں کمی کے عبوری مرحلے کے دوران قومی اداروں کی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے میں تعاون جاری رکھے گا۔

خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی بہت سی برادریاں اب بھی سماجی و معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں جہاں معیاری تعلیم اور مناسب غذائیت تک رسائی مشکل ہے۔ سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے صوبائی حکومت کے وسیع پیمانے پر ہائوسنگ منصوبے کو مضبوط اور پائیدار کمیونٹیز کی تعمیر کی جانب اہم قدم قرار دیا۔اقوام متحدہ کے وفد کو اپنے تعاون کا یقین دلاتے ہوئے خاتون اول نے کہا کہ بچوں کی صحت، غذائیت، تعلیم، پولیو کے خاتمے، خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی ترقی کے فروغ میں میری آواز آپ کی آواز ہے، ہم مل کر اپنے عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ کوئی بھی بچہ یا خاتون پیچھے نہ رہ جائے۔

محمد یحییٰ نے قومی اداروں اور شراکت داروں کے ساتھ مسلسل تعاون کے ذریعے پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات میں معاونت کے لیے اقوام متحدہ کے عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، رکن قومی اسمبلی شازیہ مری اور عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی)، یونیسیف، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، یو این ایف پی اے، یو این ایچ سی آر، آئی او ایم (آئی او ایم)، یونیسکو اور یو این ویمن کے نمائندوں نے شرکت کی۔