خصوصی سروس قواعد واضح ترمیم کے بغیر تبدیل نہیں ہو سکتے، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ کسی ادارے کے لیے خصوصی قانون کے تحت بنائے گئے سروس اور محکمانہ قواعد اس وقت تک نافذ العمل رہتے ہیں جب تک انہیں متعلقہ قانون کے تحت باضابطہ طور پر تبدیل یا منسوخ نہ کیا جائے اور ایک عمومی قانون کے تحت بنائے گئے نئے قواعد خودکار طور پر ان کی جگہ نہیں لے سکتے۔

اسلام آباد۔31مئی (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ کسی ادارے کے لیے خصوصی قانون کے تحت بنائے گئے سروس اور محکمانہ قواعد اس وقت تک نافذ العمل رہتے ہیں جب تک انہیں متعلقہ قانون کے تحت باضابطہ طور پر تبدیل یا منسوخ نہ کیا جائے اور ایک عمومی قانون کے تحت بنائے گئے نئے قواعد خودکار طور پر ان کی جگہ نہیں لے سکتے۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس منیب اختر اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ڈائریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے دائر متعدد سول پٹیشنز برائے اجازتِ اپیل مسترد کرتے ہوئے وفاقی سروس ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

عدالت کے روبرو بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020، ایف آئی اے ملازمین پر بھی لاگو ہوتے ہیں یا نہیں۔ ایف آئی اے کا مؤقف تھا کہ 1973 کے قواعد کی منسوخی اور 2020 کے قواعد کے نفاذ کے بعد جنرل کلازز ایکٹ 1897 کی دفعہ 8 کے تحت نئے قواعد خود بخود ایف آئی اے ملازمین پر بھی نافذ ہو گئے تھے۔سپریم کورٹ نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایف آئی اے ایکٹ 1974 کے تحت 1978 میں بنائے گئے خصوصی قواعد اب بھی نافذ العمل ہیں۔ عدالت نے کہا کہ 1978 کے قواعد نے 1973 کے قواعد کو مخصوص ترامیم کے ساتھ اختیار کیا تھا، لہٰذا 1973 کے قواعد کی جگہ 2020 کے قواعد کے نفاذ سے خود بخود ایف آئی اے کے خصوصی قواعد تبدیل نہیں ہو سکتے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جنرل کلازز ایکٹ کی دفعہ 8 کا مقصد صرف قانونی تسلسل برقرار رکھنا ہے، نہ کہ کسی خصوصی قانون کے تحت بنائے گئے قواعد کو ختم یا ان کی جگہ نئے قواعد نافذ کرنا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر وفاقی حکومت ایف آئی اے ملازمین پر 2020 کے قواعد نافذ کرنا چاہتی تو اسے ایف آئی اے ایکٹ 1974 کے تحت باضابطہ قانونی کارروائی کرتے ہوئے نئے قواعد یا ترمیمی نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوتا۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ مختلف قوانین کے تحت تفویض کردہ اختیارات الگ قانونی بنیاد رکھتے ہیں،

اس لیے ایک قانون کے تحت قواعد میں کی گئی تبدیلی دوسرے قانون کے تحت بنائے گئے قواعد پر خودکار اثر نہیں ڈال سکتی۔ سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کی تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے وفاقی سروس ٹریبونل کے فیصلوں کو برقرار رکھا اور قرار دیا کہ 2020 کے قواعد کے تحت کی گئی محکمانہ کارروائیاں قانونی جواز سے محروم تھیں۔