خطے میں امن کے فروغ کے لئے افغان طالبان دوحہ میں کیے گئے اپنے وعدے پورے کریں ، افتخار علی ملک

اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ خطے میں امن کے فروغ کیلئے افغان طالبان دوحہ میں کیے گئے اپنے وعدے پورے کریں اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔ اتوار کو یہاں ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ فروری 2020 میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے دوحہ معاہدے …

اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ خطے میں امن کے فروغ کیلئے افغان طالبان دوحہ میں کیے گئے اپنے وعدے پورے کریں اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔

اتوار کو یہاں ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ فروری 2020 میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے دوحہ معاہدے میں دونوں جانب سے معاہدے طے پایا جس کا ایک اہم پہلو طالبان کی طرف سے یہ یقین دہانی تھی کہ وہ کسی گروپ یا فرد کے ذریعے افغان سرزمین کو پاکستان سمیت دیگر ممالک کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ طالبان اس وعدے کا احترام کرتے ہوئے افغان سرزمین کو پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔ انہوں نے کہا کہ امن و استحکام کا فروغ خطے میں اقتصادی ترقی، تجارت میں آسانیوں اور افغانستان اور پاکستان دونوں کے عوام کی مجموعی فلاح و بہبود کے لیے بہت ضروری ہے۔

افغان طالبان کو ان کے وعدے کی یاد دہانی کراتے ہوئے افتخار علی ملک نے کہا کہ خطے میں امن برقرار رکھنے کی حتمی ذمہ داری افغان طالبان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کریں اور پاکستان سمیت اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن اور تعاون کا ماحول پیدا کرنے کے لیے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان متعدد بار سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ افغان حکام کے ساتھ اٹھایا چکا ہے لیکن اس ضمن میں ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔

اب وقت آگیا ہے کہ افغان طالبان مسلح دہشت گردوں کو حملوں سے روکنے اور ان کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لیے فوری طور پر سخت اقدامات کریں کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اچھے برادرانہ تعلقات کے لیے اس کی اشد ضرورت ہے۔