خطے میں امن کے قیام کیلئے مسلسل سفارتی کوششیں، بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام اور مسئلہ جموں و کشمیر کے حل کے لئے بامعنی اقدامات ناگزیر ہیں، وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر انجینئر امیر مقام کا یومِ سیاہ جموں و کشمیرکے موقع پر پیغام

وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیرمقام نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر یومِ سیاہ جموں و کشمیر کے موقع پر میں کشمیری عوام کی ان نسلوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بے پناہ مشکلات برداشت کیں اور عظیم قربانیاں دیں،عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کو چاہئے کہ وہ امن کے فروغ اور اس دیرینہ تنازعہ سے متاثرہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے …

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیرمقام نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر یومِ سیاہ جموں و کشمیر کے موقع پر میں کشمیری عوام کی ان نسلوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بے پناہ مشکلات برداشت کیں اور عظیم قربانیاں دیں،عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کو چاہئے کہ وہ امن کے فروغ اور اس دیرینہ تنازعہ سے متاثرہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کرتی رہے۔

یہاں جاری بیان کے مطابق امیر مقام نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947ء کے واقعات کی یاد تازہ کرنے کے لئے یومِ سیاہ جموں و کشمیر ہر سال منایا جاتا ہے،اس روز بھارتی فوجیں سری نگر میں داخل ہوئیں جس کے نتیجے میں ایک ایسا تنازعہ شروع ہوا جو 79 سال گزرنے کے باوجود آج تک حل نہیں ہو سکا، یہ دن کشمیری عوام کی مشکلات، قربانیوں اور جدوجہد کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے کئے گئے بین الاقوامی وعدوں بالخصوص حقِ خودارادیت کی تجدید کا دن بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ آٹھ دہائیوں سے غیر قانونی بھارتی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام طویل سیاسی بے یقینی، بنیادی آزادیوں پر پابندیوں اور انسانی حقوق سے متعلق سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں،اس کے باوجود کشمیری عوام نے نسل در نسل غیر معمولی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنی شناخت، عزت و وقار اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی قربانیاں احترام کے ساتھ یاد رکھنے کے لائق ہیں اور ان کی آواز کو سنا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے بعد ہونے والے واقعات نے مسئلہ جموں و کشمیر کو مزید سنگین اور تشویش ناک صورتِحال سے دوچار کر دیا ہے،یکطرفہ طور پر آئینی اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں، سیاسی سرگرمیوں اور بنیادی آزادیوں پر پابندیاں، طویل عرصے تک گرفتار رکھنا اور ایسے اقدامات جن سے علاقے کی آبادی اور سیاسی حیثیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے، کشمیری عوام کے مستقبل کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر رہے ہیں۔

امیر مقام نے کہا کہ ان اقدامات کو جموں و کشمیر کی حیثیت اور اس تنازعہ کے بین الاقوامی پہلو سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا،مسئلہ جموں و کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف اصولی اور مستقل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا یقین ہے کہ کوئی بھی یکطرفہ اقدام ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ کی بنیادی نوعیت کو تبدیل نہیں کر سکتا، اس مسئلے کا پائیدار حل پُرامن، منصفانہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہئے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسلسل کشیدگی بھی اس بات کو واضح کرتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجوہات کو حل کرنا کتنا ضروری ہے،خطے میں امن کے قیام کے لئے مسلسل سفارتی کوششیں، بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام اور مسئلہ جموں و کشمیر کے حل کے لئے بامعنی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کو چاہئے کہ وہ امن کے فروغ اور اس دیرینہ تنازعہ سے متاثرہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کرتی رہے۔

امیر مقام نے کہا کہ یومِ سیاہ جموں و کشمیر کے موقع پر میں کشمیری عوام کی ان نسلوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بے پناہ مشکلات برداشت کیں اور عظیم قربانیاں دیں، میں ان خاندانوں کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں جو آج تک اس غیر حل شدہ تنازعہ کے اثرات اور مشکلات برداشت کر رہے ہیں،وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران کی حیثیت سے میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے غیر قانونی بھارتی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کی مسلسل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں، ہم کشمیری عوام کے جائز حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہیں گے اور عالمی برادری کے سامنے ان کے مسائل اور خدشات کو اجاگر کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یومِ سیاہ جموں و کشمیر صرف ماضی کو یاد کرنے کا دن نہیں بلکہ یہ ہمیں اپنی اجتماعی ذمہ داری کا احساس بھی دلاتا ہے کہ ہم ایسے مستقبل کے لئے کوششیں جاری رکھیں جس میں غیر قانونی بھارتی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام امن، تحفظ اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہو۔

مزید خبریں