سعودی عرب ،حج کانفرنس و نمائش میں 150 ممالک کے 520 نمائش کنندگان کی شرکت متوقع

سعودی عرب کے شہر جدہ میں چھٹی حج کانفرنس و نمائش میں 150 سے زائد ممالک کے 520 سے زیادہ نمائش کنندگان کی شرکت متوقع ہے ۔ یہ کانفرنس 1448 ہجری کے حج سیزن کی پیشگی تیاریوں کے سلسلے میں 8 سے 11 نومبر منعقد کی جا رہی ہے۔سعودی وزارت حج و عمرہ، حج و عمرہ زائرین کے تجربے کو بہتر بنانے کے پروگرام کے تعاون سے اس کانفرنس اور …

جدہ ۔27اکتوبر (اے پی پی):سعودی عرب کے شہر جدہ میں چھٹی حج کانفرنس و نمائش میں 150 سے زائد ممالک کے 520 سے زیادہ نمائش کنندگان کی شرکت متوقع ہے ۔ یہ کانفرنس 1448 ہجری کے حج سیزن کی پیشگی تیاریوں کے سلسلے میں 8 سے 11 نومبر منعقد کی جا رہی ہے۔سعودی وزارت حج و عمرہ، حج و عمرہ زائرین کے تجربے کو بہتر بنانے کے پروگرام کے تعاون سے اس کانفرنس اور نمائش کا اہتمام کر رہی ہے۔ یہ پروگرام سعودی وژن 2030 کا حصہ ہے۔

کانفرنس کے ساتھ منعقد ہونے والی نمائش 67 ہزار مربع میٹر سے زائد رقبے پر پھیلی ہوگی، جس میں سرکاری، نجی اور غیر منافع بخش شعبوں کے ادارے حج زائرین کو خدمات فراہم کرنے کے لیے اپنی مصنوعات، جدید ٹیکنالوجی اور مختلف اقدامات پیش کریں گے۔نمائش کا مقصد متعلقہ اداروں اور خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو معاہدوں کو حتمی شکل دینے، شراکت داریوں کو فروغ دینے اور آئندہ حج سیزن کی انتظامی و عملی ضروریات پر تبادلہ خیال کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔اس موقع پر سرکاری و نجی اداروں، غیر منافع بخش تنظیموں، حج امور کے دفاتر اور خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو براہ راست رابطوں اور تعاون کے مواقع تلاش کرنے کا موقع ملے گا۔

شرکا حج زائرین کے سفر کے مختلف مراحل سے متعلق خدمات، مصنوعات اور ٹیکنالوجی کا جائزہ بھی لے سکیں گے۔کانفرنس اور نمائش میں نقل و حمل و لاجسٹکس، بنیادی ڈھانچے، سہولیات کے انتظام، رہائش و مہمان نوازی، خوراک و غذائیت، سکیورٹی و تحفظ اور صحت کی دیکھ بھال سمیت مختلف شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ذرائع ابلاغ، مواصلات، ٹیکنالوجی و جدت، کاروباری سرگرمیوں، تربیت، پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے اور حج زائرین کے تجربے کو بہتر بنانے کے اقدامات بھی زیر بحث آئیں گے۔منتظمین کے مطابق مختلف شعبوں کے نمائندوں کو ایک ہی جگہ جمع کرنے سے خدمات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے، انتظامی ضروریات کی نشاندہی اور حج زائرین کے سفر کے تمام مراحل کے لیے مربوط حل تیار کرنے میں مدد ملے گی۔

 

مزید خبریں