خوراک کا ضیاع غذائی قلت کی بڑی وجہ، عالمی برادری اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ۔30ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کےخوراک اور زراعت سے متعلق ادارے ایف اے او نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ خوراک کے نقصان اور ضیاع کو روکنے کے لئے اقدامات کرے، یہ دنیا بھر میں بھوک اور غذائی قلت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے نے ادارے کے ماہرین کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر اشیائے …

اقوام متحدہ۔30ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کےخوراک اور زراعت سے متعلق ادارے ایف اے او نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ خوراک کے نقصان اور ضیاع کو روکنے کے لئے اقدامات کرے، یہ دنیا بھر میں بھوک اور غذائی قلت کی ایک بڑی وجہ ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے نے ادارے کے ماہرین کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر اشیائے خوراک کی پیداوار ہوتی ہے جو 8 ارب کی عالمی آبادی لیے کافی ہے تاہم اس کے باوجود 80 کروڑ کے قریب لوگ پھر بھی غذائی قلت یا بھوک کا شکار ہیں اور اس کی وجہ خوراک کا ضیاع ہے،اس سے متاثرہ خطوں میں صحت کے سنگین مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پیدا کی جانے والی خوراک کا لگ بھگ ایک تہائی ( ایک ارب 30 کروڑ ٹن) انسانی استعمال کے بجائے کاروباری اداروں کے سٹورز یا صارفین کے کوڑے دانوں میں چلا جاتا ہے۔

خوراک اور غذائیت کے امور سے متعلق ایف اے او کی ڈپٹی ڈائریکٹر نینسی ابورٹو کا کہنا ہے کہ خوراک کے ضیاع کے نتیجے میں پانی، زمین، توانائی، مزدوری اور سرمائے سمیت وہ تمام وسائل ضائع ہو جاتے ہیں جو اسے پیدا کرنے میں صرف ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر خوراک کے ضیاع کی روک تھام کے لئے اقدام نہ کئے گئے تو اقوام متحدہ2030 تک بھوک کے خاتمے سے متعلق دیرپا ترقی کےاپنے ہدف کو کبھی حاصل نہیں کر سکے گا۔ابورٹو نے کہا کہ غذائی قلت کے باعث ایک جانب لاکھوں بچے مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں تو دوسری طرف ہر تین میں سے ایک بالغ شخص موٹاپے کا شکار ہے۔

انھوں نے بتایا کہ صحت بخش خوراک کی زیادہ قیمت ہونے کے سبب دنیا کے ہر براعظم، علاقے اور ممالک میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی اور کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران یہ صورت حال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

عالمی ادارے کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2019 کے دوران دنیا بھر میں پیدا ہونے والی خوراک کا 14 فی صد حصہ کھیتوں کھلیانوں سے لے کر اسے فروخت کے مراکز تک پہنچانے کے عمل کے دوران ضائع ہو گیا تھا جب کہ اس سال کے اعداد و شمار کے مطابق دستیاب خوراک کا اندازاً 17 فی صد حصہ ضائع ہوا۔