پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) برآمد کنندگان کو بین الاقوامی فائیٹوسینیٹری معیارات پر پورا اترنے اور اعلیٰ قدر کی عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے میں مدد دینے کے لئے کراچی میں ایک جدید الیکٹران بیم (ای بیم) شعاع ریزی پلانٹ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے
خوراک کی برآمدات بڑھانے کے لئے کراچی میں ای بیم پلانٹ قائم کرنے کا منصوبہ

مزید خبریں
لاہور۔9جون (اے پی پی):پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) برآمد کنندگان کو بین الاقوامی فائیٹوسینیٹری معیارات پر پورا اترنے اور اعلیٰ قدر کی عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے میں مدد دینے کے لئے کراچی میں ایک جدید الیکٹران بیم (ای بیم) شعاع ریزی پلانٹ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔پی اے ای سی کے ڈائریکٹر اور ترجمان ڈاکٹر راشد محمود نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ مجوزہ سہولت کا مقصد برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں کی جانب سے عائد کردہ سخت فائیٹوسینیٹری تقاضوں کی تعمیل میں مدد فراہم کرنا ہے جس سے دنیا بھر کے معیار پسند ممالک میں پاکستان کی زرعی اور غذائی مصنوعات کی برآمدی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
دنیا بھر کے 55 سے زائد ممالک خوراک کی شعاع ریزی کو فائیٹوسینیٹری علاج کے طور پر تسلیم کرتے ہیں تاکہ نقصان دہ کیڑوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور گوشت اور مصالحہ جات جیسی حساس غذائی مصنوعات میں موجود مضر بیکٹیریا کا خاتمہ کیا جا سکے، کئی اہم برآمدی منڈیاں درآمدی اشیا کے لئے مخصوص شعاع ریزی معیارات بھی نافذ کرتی ہیں۔ٹیکنالوجی کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر راشد محمود نے کہا کہ الیکٹران بیم (ای بیم) شعاع ریزی میں صنعتی مقاصد کے لئے بلند توانائی والے الیکٹران استعمال کئے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ای بیم شعاع ریزی طبی آلات کی جراثیم کشی، آلودگی پر قابو پانے اور مختلف مواد میں مطلوبہ تبدیلیاں لانے کے لئے وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ لاہور میں قائم پاراس (پاکستان ریڈی ایشن سروسز) شعاع ریزی پلانٹ، جہاں گاما اور الیکٹران بیم دونوں ٹیکنالوجیز استعمال کی جاتی ہیں، طبی آلات، ادویات اور زرعی مصنوعات کی شعاع ریزی کے لئے پاکستان کی نمایاں ترین سہولت ہے۔ 1988 سے فعال یہ ادارہ ایسی خدمات فراہم کر رہا ہے جو مصنوعات کی شیلف لائف بڑھانے اور صحت و قرنطینہ سے متعلق معیارات پر عملدرآمد یقینی بنانے میں مدد دیتی ہیں۔
ڈاکٹر راشد محمود کے مطابق پاراس شعاع ریزی پلانٹ سالانہ 60 ہزار ٹن تک مصنوعات کی پراسیسنگ کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس سہولت میں تجارتی بنیادوں پر کی جانے والی پراسیسنگ خراب ہونے والی پھلوں اور سبزیوں کی شیلف لائف بڑھانے کے ساتھ ساتھ طبی سامان کی شعاع ریزی کے ذریعے صحت کے شعبے کی بھی معاونت کرتی ہے۔ڈاکٹر راشد محمود نے کہا کہ مصالحہ جات، جڑی بوٹیوں، ذائقہ بڑھانے والی اشیا، اعلیٰ معیار کے آٹے اور منجمد گوشت کے برآمد کنندگان اپنی مصنوعات کو امریکا، آسٹریلیا، کینیڈا اور مشرق وسطیٰ کی معیار پسند منڈیوں میں بھیجنے سے قبل پاراس میں شعاع ریزی کے ذریعے آلودگی سے پاک کراتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستانی آم بھی پاراس میں قرنطینہ علاج سے گزرنے کے بعد آسٹریلیا برآمد کئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2025 میں تقریباً 110,000 کلوگرام (110 ٹن) آم پاراس میں پراسیسنگ کے بعد آسٹریلیا برآمد کئے گئے۔پی اے ای سی کے ترجمان نے مزید بتایا کہ پاراس نے شعاع ریزی کے ذریعے سالمونیلا بیکٹیریا کا خاتمہ کر کے قطر کو منجمد مرغی کی برآمدات کے لئے ایک نئی راہ فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے منجمد مرغی کی برآمدات میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ڈاکٹر راشد محمود کے مطابق ادویات، طبی آلات اور جراحی آلات تیار کرنے والے ادارے پاراس لاہور کے اہم صارفین میں شامل ہیں کیونکہ انہیں بیرون ملک خریداروں کی تکنیکی ضروریات پوری کرنے کے لئے شعاع ریزی خدمات درکار ہوتی ہیں۔ای بیم عمل پیکیجنگ مواد، کاسمیٹکس اور ذاتی استعمال کی مصنوعات میں آلودگی پر قابو پانے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پی اے ای سی کی شعاع ریزی سہولیات پودوں اور نباتاتی مصنوعات کے علاج کے لئے وفاقی محکمہ تحفظ نباتات میں رجسٹرڈ ہیں۔ ڈاکٹر راشد محمود نے کہا کہ جو ممالک شعاع ریزی کے علاج کو تسلیم کرتے ہیں ان سے توقع ہے کہ وہ پاراس پلانٹ کو بھی تسلیم کریں گے۔انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ کراچی میں شعاع ریزی کی سہولیات کے قیام سے پاکستان کی غذائی اور زرعی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا، خصوصاً مشرق وسطیٰ کے خوراک کی کمی کا سامنا کرنے والے ممالک میں۔








